’ زیر حراست افراد پر تشدد کیا جا رہا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایک رپورٹ میں شامی حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ زیر حراست شہریوں کو ایک منظم طریقہ کار کے تحت اکثر اوقات تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ایمنسٹی کی رپورٹ کے مطابق زیر حراست افراد کو لٹکانے کے بعد مکوں اور بندوق کے دستے سے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ بیانات ریکارڈ کرانے والے لوگوں کے مطابق تشدد کا نشانہ بننے والوں میں بچے بھی شامل ہیں۔

شامی حکومت نے مخالفین پر تشدد کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

’میں مرنا چاہتا ہوں‘ نامی رپورٹ میں ان درجنوں افراد کے بیانات قلمبند کیے گئے جو فروری کے وسط میں شام سے نقل مکانی کر کے اردن پہنچے تھے۔

ان میں سے پچیس کے قریب افراد کو دوران حراست تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا یا ان سے برا سلوک کیا گیا۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ گرفتار کیے جانے کے ساتھ ہی برے سلوک کا آغاز ہو جاتا ہے، حراستی مراکز پر پہنچتے ہی ان سے دیر تک مار پیٹ کی جاتی ہے۔

’ان پر بہت دیر تک اور بار بار تشدد کیا جاتا ہے، اس میں مکوں اور دیگر آلات جیسا کہ لاٹھیاں، بندوقوں کے دستے، بجلی کی تاروں اور ٹانگوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔‘

ایمنسٹی نے شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بے وجہ گرفتاریوں اور حراست میں لیے جانے والے ان افراد پر تشدد اور برے سلوک کا خاتمہ کیا جائے جو حکومت کے خلاف پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔

دریں اثنا ء اقوام متحدہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ شام نے کوفی عنان کی جانب دی جانے والی تجاویز کا جواب دیا ہے۔

اہلکاروں کے مطابق شام کو ملک میں امن کے قیام کے حوالے سے دی جانے والی تجاویز کے جواب کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے مزید کوئی تفیصل نہیں بتائی ہے۔

دریں اثناء شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے ترکی کی سرحد کے قریب باغیوں کے ایک مضبوط گڑھ ادلیب پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

شام میں حزب اختلاف کے کارکنوں نے تصدیق کی ہے کہ تین روز کی بمباری کے بعد فوج کو شہر میں تعینات کیا گیا ہے تاہم انھیں باغی جنگجووں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔

اس سے پہلے شامی صدر نے مئی میں پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا تھا۔ شامی صدر کے اس اعلان کو امریکہ نے مضحکہ خیز قرار دیا تھا۔

خیال رہے کہ شام کے بحران پر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی اور اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے گزشتہ دنوں شام کے دورے کے دوران صدر بشار الاسد سے ہونے والے ملاقات میں انھیں ٹھوش تجاویز سونپی تھیں۔

گزشتہ روز منگل کو اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ شام میں جاری عوامی تحریک میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد آٹھ ہزار سے زائد ہو گئی ہے۔

مدادی اداروں کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تشدد کی وجہ سے کم از کم دو لاکھ تیس ہزار شہریوں کو اپنا گھربار چھوڑنا پڑا ہے۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے کوارڈینیٹر پانوس مومزس کا کہنا ہے کہ بےگھر ہونے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں