شام:’دو لاکھ تیس ہزار شہری بےگھر‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تشدد کی وجہ سے کم از کم دو لاکھ تیس ہزار شہریوں کو اپنا گھربار چھوڑنا پڑا ہے۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے کوارڈینیٹر پانوس مومزس کا کہنا ہے کہ بےگھر ہونے والوں کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

پانوس مومزس نے جنیوا میں کہا ہے کہ ’روزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں افراد شام سے ہمسایہ ممالک کا رخ کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام میں حالات کی خرابی کی وجہ سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جس سے عام شہریوں اور خصوصاً شام میں رہائش پذیر ایک لاکھ سے زائد عراقی پناہ گزینوں کی مشکلات بڑھی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شام میں حکومت مخالف تحریک کے آغاز سے اب تک تین لاکھ افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں جبکہ شام کی ہلالِ احمر کے مطابق دو لاکھ افراد ایسے ہیں جنہوں نے اپنا گھر بار تو چھوڑا ہیں لیکن وہ شام میں ہی مقیم ہیں۔

اس کے علاوہ عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ شامی حکومت لبنان اور ترکی کی سرحدوں کے ساتھ بارودی سرنگیں بچھا رہی ہے۔

واضح رہے کہ شام میں جاری تشدد سے بچنے کے لیے مہاجرین ان راستوں کے ذریعے لبنان اور ترکی میں داخل ہو رہے ہیں۔

نیویارک میں موجود اس گروپ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس عینی شاہدین کے متعدد ایسے شواہد ہیں جن میں ان اطلاعات کی تصدیق ہوتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ہیومن رائٹس واچ نے شامی حکومت سے فوری طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ ہتھیار فوجوں کے خلاف تو غیرمؤثر ہے چنانچہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری ہی ہوں گے۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ اسے شامی فوج کے ایک اٹھائیس سالہ سابق ’ڈیمائنر‘ یعنی بارودی سرنگوں کو غیر فعال کرنے کے ماہر نے بتایا کہ ان اور ان کہ ساتھیوں نے حسانیہ کے علاقے سے تین سو کے قریب بارودی سرنگیں نکالی ہیں۔ یہ علاقہ ترکی جانے والے پناہ گزینوں کے راستے میں آتا ہے۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے حکام کے مطابق شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف گزشتہ ایک سال سے جاری مظاہروں میں اب تک آٹھ ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ناصر عبدالعزیز الناصر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے سفیر کوفی عنان ترکی میں شام کی حزبِ مخالف شامی قومی کونسل سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

واضح رہے کہ کوفی عنان نے گزشتہ ہفتے شام کے صدر کے ساتھ دمشق میں ملاقات کی تھی، اس موقع پر کوفی عنان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ شام میں جلد جنگ بندی ہو جائے گی۔

کوفی عنان کا اصرار تھا کہ شام کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد تک رسائی اور مستقبل کے متعلق مذاکرات ان کی اہم ترجیحات ہیں۔

تاہم ترکی کے وزیرِ اعظم طیب اردگان سے انقرہ میں پیر کو ہونے والی ملاقات کے بعد کوفی عنان نے تسلیم کیا کہ شام کے مسئلے کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے بہت وقت درکار ہے کیونکہ شام کی صورت حال کافی پیچیدہ ہے۔

دوسری جانب شام میں تشدد کا سلسلہ جاری ہے اور حکومتی ملیشیا کی جانب سے حمص میں کیے جانے والے ایک حملے میں سینتالیس افراد ہلاک ہو گئے۔

اطلاعات ہیں کہ اتوار کی رات ہونے والی ہلاکتوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی تھی جنہیں تشدد کر کے ہلاک کیا گیا۔

شامی حکومت نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن مسلح دہشتگردوں کو ان ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

لبنان میں موجود بی بی سی کے نامہ جان ڈاننسن کا کہنا ہے کہ یو ٹیوب پر دکھائی جانے والی متحرک تصاویر میں مردوں، خواتین اور بچوں کی لاشیں دکھائی گئی ہیں جو ان حملوں میں مارے گئے۔

نامہ نگار کے مطابق ایک ویڈیو میں کم سے کم گیارہ افراد کی لاشیں دکھائی گئیں جن میں سے چار بچے بھی شامل تھے اور ان کی لاشیں خون میں لت پت تھیں۔

واضح رہے کہ شام کے شہر حمص میں گزشتہ کئی ہفتوں میں سرکاری فوج کی کارروائیاں جاری ہیں۔شام میں آزاد میڈیا پر عائد سخت پابندیوں کی وجہ سے ان اطلاعات کی تصدیق کرنا انتہائی مشکل ہے۔

اسی بارے میں