سولہ شہریوں کا قاتل فوجی، افعانستان سے منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل تھے۔

امریکی فوجی حکام کے مطابق قندھار میں سولہ افغان شہریوں کے قتل کے الزامات کا سامنا کرنے والے امریکی فوجی کو افغانستان سے باہر مننتقل کر دیا گیا ہے۔

ابھی تک یہ معلومات نہیں دی گئیں کہ اسے کہاں لے جایا گیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کے مبینہ قاتل اس فوجی کو افغانستان سے باہر لے جانے کا فیصلہ ملک میں افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے ایک قانونی تجویز کے بعد کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس فوجی کے خلاف جو بھی قانونی کارروائی ہوگی وہ افغانستان سے باہر ہوگی۔

اتوار کو پیس انے والے اس واقعے میں ایک امریکی فوجی نے مبینہ طور پر سولہ افراد کو ان کے گھروں میں جا کر گولیاں مار دی تھیں۔ ہلاک ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل تھے۔

جس طرح سے امریکی فوجی کو ملک سے باہر لے جایا گیا ہے اس سے افغانستان میں پہلے سے موجود اشتعال کے مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔

امریکہ میں کئی ارکانِ پارلیمان نے مطالبہ کیا تھا کہ اس فوجی پر اپنے ملک میں مقدمہ چلایا جانا چاہیئے۔

امریکہ نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کے فوجی جو بھی غلطیاں کریں گے اس کے خلاف کارروائی امریکی فوجی قانونی نظام کے تحت ہوگی۔

اس فوجی پر ابھی تک باضابطہ طور پر الزامات عائد نہیں کیے گئے اس لئے اس کی شناخت بھی ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اس فوجی نے خود کو حکام کے حوالے کر دیا تھا۔

اب اگر اس کے نفسیاتی معائنے کی ضرورت پڑی، جس کی امید بھی کی جا رہی ہے، تو وہ بھی اس کی شناخت بتانے سے کچھ وقت پہلے ہی ہوگی۔

امریکی وزیر دفاع ليون پنیٹا نے کہا تھا کہ اگر فوجی مجرم پایا گیا تو اسے سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں