’ایران پر سفارتی دباؤ ڈالنے کا وقت ابھی گیا نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہم ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے باز رکھنے کے لیے پرعزم ہیں: براک اوباما

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے اس پر سفارتی دباؤ ڈالنے کا وقت ابھی گیا نہیں ہے۔

یہ بات انہوں نے واشنگٹن میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کے بعد کہی۔ براک اوباما نےکہا کہ دونوں ممالک سمجھتے ہیں کہ اب بھی وقت ہے کہ سفارتی کوششوں کو بروئے کار لایا جائے اور ایران کو قائل کیا جائے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کردے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو اپنے جوہری پروگرام کے باعث مسلسل دباؤ کا سامنا رہے گا۔

براک اوباما نے کہا ’ہم ایران کو جوہری ہتھیار کے حصول سے باز رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اب بھی وقت اور موقع ہے کہ اس مسئلہ کا سفارتی حل تلاش کیا جائے۔ ہم اس بارے میں سلامتی کونسل کے پانچ اراکین اور ایک اور پارٹنر کے ساتھ مل کر کوششیں کررہے ہیں۔ اسی دوران ہم نے ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے سخت امریکی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جبکہ یورپی یونین بھی ایرانی تیل پر پابندی کی تیاریوں میں مصروف ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ایران کو سمجھنا ہوگا کہ وہ عالمی دباؤ اور اس کے نتائج سے فرار کی راہ اختیار نہیں کرسکتا اور اب اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ وہ اپنا جوہری پروگرام ترک کرے۔

تاہم ایران کا اصرار ہے کہ اس کا جوہری پروگرام جنگی نہیں بلکہ پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ ایران کو ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کرنے میں جھجکیں گے نہیں۔

یہ بات انہوں نے اسرائیل کی حمایتی لابی سے خطاب میں کہی تھی۔ تاہم انہوں نے کہا تھا کہ ڈپلومیسی اب بھی کامیاب ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب ایران کے مذاکرات کار سعید جلیلی نے گزشتہ ماہ یورپی یونین کو ایک خط بھیجا تھا جس میں انہوں نے مذاکرات کی پشکش کی تھی۔

اس کے جواب میں یورپی یونین نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر چھ بڑی عالمی طاقتوں نے ایران کے ساتھ نئے سرے سے مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔

یورپی یونین کی امور خارجہ کی سربراہ کیتھرین ایشٹن نے کہا کہ انہوں نے سلامتی کونسل کے پانچ اراکین اور جرمنی کی جانب سے ایران کو خط کا جواب دے دیا ہے۔

ایران کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرنے کے بعد گزشتہ جمعرات کو ان مذاکرات کی تیاری کے سلسلے میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، روس، فرانس اور چین کے نمائندوں کا اجلاس آسٹریا کے شہر ویانا میں منعقد ہوا۔

تاہم دنیا کی چھ بڑی عالمی طاقتیں اس بات پر متفق نہیں ہو سکیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کے مسئلہ پر اس سے کس قدر سخت رویہ اختیار کیا جائے۔

مغربی ممالک کا کہنا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس نے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں کے ساتھ تعاون نہیں کیا جس پر سخت تنقید کی جانی چاہیے لیکن روس اور چین اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے مفاہمتی ذرائع استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں