شام میں امدادی مشن بھیجنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ S
Image caption شام میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ اس ہفتے کے آخر تک شام میں زمینی حقائق کا اندازہ لگانے کے لیے ایک امدادی ٹیم بھیجے گا۔

اقوام متحدہ کا یہ مشن شام میں جاری عوامی تحریک کا ایک سال مکمل ہونے کے موقع پر بھیجا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی ٹیم ایک ایسے وفد کا حصہ ہوگی جس میں شامی حکومت اور ایک تنظیم اسلامک تعاون کے اراکین شامل ہونگے۔

وفد حکومت مخالف تحریک کے اہم ترین شہروں حمص، حما اور دیرہ کا بھی دورہ کرئے گا۔

اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کی سربراہ ویلری ایموس نے فوری ضرویات کی نشاندہی اور ہنگامی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ بنیادی اشیا کی فراہمی کے لیے وفد کو بلا رکاوٹ مختلف علاقوں تک رسائی دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ضائع کرنے کو کوئی وقت نہیں ہے۔

دریں اثناء دو سو امدادی تنظیموں کے ایک اتحاد نے روس اور چین سے کہا ہے کہ وہ شام میں فسادات ختم کرنے کی اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کریں۔

اجتماعی طور پر دیے گئے ایک بیان میں ستائیس ممالک سے تعلق رکھنے والی امدادی تنظیموں نے سیکورٹی کونسل سے کہا کہ وہ متحد ہو کر شامی حکومت کی جانب سے شہریوں پر تشدد اور بلا روک ٹوک حراستوں کے سلسلے کے خلاف قرارداد منظور کرے۔

سیاسی بنیادوں پر چین اور روس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے بحران پر قرارداد کو مسترد کر دیا تھا۔

بدھ کے روز شام کی سکیورٹی فورسز ادلیب کے بعد اب جنوبی شہر دیرہ پر بمباری کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

شام اور ترکی سرحد کے قریب واقع دیرہ میں ہی حکومت مخالف احتجاج شروع ہوا تھا۔

ترکی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز میں سرحد پار سے آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

ترکی کے دفترِ خارجہ کے ترجمان سیجک اونال نے انقرہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ترکی میں موجود شامی پناہ گزینوں کی تعداد میں ایک روز میں ایک ہزار افراد کا اضافہ ہوا اور مجموعی طور پر تعداد چودہ ہزار سات سو ہوگئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس تعداد میں ابھی مزید اضافہ ہوگا۔

دوسری جانب شام کے دارالحکومت دمشق میں جمعرات کے روز ہزاروں لوگوں نے حکومت کی حمایت میں نکالی گئی ریلی میں شرکت کی اور حکومت کے خلاف ’ایک سال سے ہونے والی سازش‘ کی مزمت کی۔

شامی صدر بشار الاسد نے بارہا اصرار کیا ہے کہ ان کی فوج ان مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں جن کا مقصد شام کو غیر مستحکم کرنا ہے۔

اسی بارے میں