’عبداللہ السینوسی کو لیبیا کے حوالے نہ کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عبداللہ السنوسی لبیا کے سابق حکمران کرنل قدافی کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد ساتھی تھے۔

حقوق انسانی کی بین الاقوامی تنظیموں ایمنٹسی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ موریطانیہ کی حکومت کو چاہیے کہ وہ عبداللہ السینوسی کو لیبیا کی حکومت کے حوالے نہ کرے۔

دونوں تنظیموں کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق عبداللہ السینوسی پر لیبیا میں شفاف مقدمہ چلنے کا امکان نہیں ہے۔

تنظیموں نے موریطانیہ کی حکومت پر زور دیا کہ یہ اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ عبداللہ السینوسی کو عالمی عدالت کے حوالے کیا جائے اگرچہ موریطانیہ اس عدالت کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتا۔

اس سے پہلے لیبیا میں سابق صدر کرنل قذافی کے قریبی ساتھی اور ان کے دورِ حکومت میں خفیہ ادارے کے سربراہ، عبداللہ السینوسی کی حوالگی کے لیے، لیبیا کی عبوری حکومت نے موریطانیہ سے باضابطہ درخواست کر دی ہے۔

موریطانیہ نے گزشتہ روز اعلان کیا تھا کہ السینوسی کو گزشتہ روز ایک ائر پورٹ پر گرفتار کیا گیا جب وہ جعلی پاسپورٹ کے ذریعے مراکش سے موریطانیہ پہنچے۔

حکام نے اُن کی گرفتاری کے متعلق تاحال کوئی ثبوت ظاہر نہیں کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عبداللہ السنوسی کو نواکشوط ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا۔

عبداللہ السنوسی لیبیا کے سابق حکمران کرنل قدافی کے انتہائی قریبی اور قابلِ اعتماد ساتھی اور رشتے دار بھی تھے۔

عبداللہ السنوسی قدافی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد لیبیا سے فرار ہو گئے تھے۔ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ میں مطلوب ہیں۔

موریطانوی سکیورٹی حکام کا کہنا تھا کہ عبداللہ السنوسی کو رات میں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عبداللہ السنوسی مراکش کے شہر کاسابلانکا سے ایک جعلی پاسپورٹ پر آئے تھے۔

لیبیا کی حکومت یا عالمی فوجداری عدالت میں سے کوئی بھی ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کر سکے ہیں۔

بی بی سی کے سیبیشٹیئن عشر کا کہنا تھا کہ اگر عبداللہ السینوسی حراست میں ہیں تو وہ قدافی حکومت کے بارے میں مزید تفصیلات دے سکتے ہیں۔

نامہ نگاروں کے مطابق ’قصاب‘ کے نام سے پہچانے جانے والے عبداللہ السنوسی قدافی حکومت کے چند نہ پکڑے گئے اہم اراکین میں سے ایک ہیں۔

ستائیس جون سنہ دو ہزار گیارہ کو عالمی فوجداری عدالت میں ان پر، کرنل قدافی اور ان کے بیٹے سیف الاسلام کے ساتھ ہی فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔

سیف الاسلام قدافی کو نومبر میں جنوبی لیبیا میں پکڑ لیا گیا تھا اور وہ ابھی تک حراست میں ہیں۔

عبداللہ السنوسی کو اسّی اور نوے کی دہائی کے دوران قدافی حکومت کے مخالفین کو ختم کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ وہ سنہ انیس سو چھیانوے میں طرابلس کے ابو سلیم جیل میں بارہ سو سیاسی قیدیوں کے قتل کے بھی ذمہ دار سمجھے جاتے ہیں۔

گزشتہ سال کے عوامی احتجاج میں وہ منظرِ عام سے رو پوش رہے تاہم انہوں نے گزشتہ فروری میں بن غازی میں حکومت مخالف تحریک کو کچلنے کی کوشش میں اہم کردار ادا کیا۔

ان کی گرفتاری اور ہلاکت کی خبریں پہلے بھی آ چکی ہیں تاہم بعد میں ان خبروں کی تردید ہوتی رہی ہے۔

اسی بارے میں