لیبیا کا السینوسی کی حوالگی کا مطالبہ

عبداللہ السینوسی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 63 عبداللہ السنوسی سالہ گزشتہ برس کرنل قافی کی حکومت کے زوال کے وقت لیبیا سے فرار ہو گئے تھے۔

لیبیا نے کرنل قذافی کے سابق انٹیلیجنس چیف عبداللہ السینوسی کی موریطانیہ میں گرفتاری کے بعد ان کی حوالگی کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔

تریپولی میں نئی حکومت کے ترجمان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جنرل عبداللہ السینوسی کو لیبیا لا کر ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

ترجمان محمد الحارزی کا کہنا تھا کہ عبداللہ السینوسی فرانس اور جرائم کی عالمی عدالت کو بھی مطلوب ہیں لیکن انہیں لیبیا کے حوالے ہی کیا جانا چاہئیے۔

انٹرپول کا کہنا ہے کہ اس نے لیبیا کی درخواست پر وارنٹ ’ریڈ نوٹس‘ جاری کر دیا ہے۔

عبداللہ السینوسی کی گرفتاری سے تریپولی کی سڑکوں پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا تھا۔

ترپولی کے ایک رہائشی کا کہنا تھا کہ عبداللہ السینوسی کرنل قذافی کا ’بلیک باکس‘ ہے اور ان کے پاس بہت اہم اطلاعات ہونگی۔’ عبداللہ السنوسی کے ہاتھ ہمارے خون سے رنگے ہوئے ہیں انہیں لیبیا لایا جانا چاہئیے۔‘

سابق انٹیلیجنس چیف عبداللہ السینوسی انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں جرائم کی عالمی عدالت کو بھی مطلوب ہیں۔

اس کے علاوہ فرانس بھی 1989 میں ایک جہاز پر بم حملے کے سلسلے میں عبداللہ السینوسی کو فرانس لیجانا چاہتا ہے۔

موریطانیہ کی حکومت پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ وہ السنیوسی کی حوالگی سے قبل خود تحقیقات کرنا چاہتی ہے۔

افسران کے مطابق السینوسی کو موریطانیہ کے ائیر پورٹ پر اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ جعلی پاسپورٹ کے ذریعے مراکش سے موریطانیہ پہنچے تھے۔

حکام نے اُن کی گرفتاری سے متعلق تاحال کوئی ثبوت ظاہر نہیں کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عبداللہ السینوسی کو ہوائی اڈے سے گرفتار کیا گیا اور خیال ہے کہ انہیں موریطانیہ کے انٹیلیجنس دفتر میں رکھا گیا ہے۔

تریسٹھ سالہ عبداللہ السینوسی گزشتہ برس کرنل قافی کی حکومت کے زوال کے وقت لیبیا سے فرار ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں