بھارت: غربت میں کمی کے نئے اعداد و شمار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دیہی علاقوں کے بچوں کی فلاح کے لیے حکومت نےکئی پروگرام شروع کیے ہیں

بھارت میں منصوبہ بندی کمیش نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک میں غریبوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی ہوئی ہے لیکن شہری علاقوں میں تناسب کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے زیادہ غربت ہے۔

لیکن حزب اختلاف کا الزام ہے کہ غربت میں کمی کا دعویٰ کر کے حکومت ’اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے تلخ حقائق کی پردہ پوشی کر رہی ہے۔‘

منصوبہ بندی کمیشن نے اپنے تازہ ترین اعداد و شمار میں کہا ہے کہ دو ہزار پانچ سے دو ہزار دس کے درمیان پانچ کروڑ لوگ ’غربت‘ کے زمرے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں لیکن کمیشن نے صرف ان لوگوں کو غریب مانا ہے جو روزانہ اٹھائیس روپے سے کم میں گزارا کرتے ہیں۔

سروے میں مذہب کی بنیاد پر بھی معلومات یکجا کی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری علاقوں میں آبادی کے تناسب کے لحاظ سے مسلمانوں میں سب سے زیادہ غربت ہے اور سب سے کم عیسائیوں میں۔

شہری علاقوں میں تقریباً چونتیس فیصد مسلمان انتہائی غربت کے زمرے میں آتے ہیں اور سب سے زیادہ صورتحال گجرات، اترپردیش اور بہار میں خراب ہے۔ اتر پردیش کے شہری علاقوں میں تقریباً نصف آبادی انتہائی غریب ہے جبکہ بہار میں یہ تناسب چھپن فیصد سےزیادہ ہے۔

دیہی علاقوں میں بھی مسلمانوں کی حالت انتہائی تشویش ناک ہے۔ آسام میں ترپن فیصد سے زیادہ اور اتر پردیش میں چھپن فیصد سے زیادہ مسلمان خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارتے ہیں۔

مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما گروداس داس گپتنا نے منگل کو کہا کہ حکومت اعداد و شمار کا سہارا لیکر صرف اپنی ناکامیوں کو چھپانےکی کوشش کر رہی ہے۔

غربت کے زمرے میں کس کو شامل کیا جانا چاہیے، اس سوال پر گزشتہ برس اس وقت بھی شدید بحث ہوئی تھی جب حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ ایک حلف نامےمیں کہا تھا کہ بتیس روپے روزانہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھنے والے لوگوں کو انتہائی غریب کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا۔

لیکن اس کے بعد حکومت نے سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ غریبوں کی نشاندہی کے لیے حقیقت پسندانہ پیمانہ اختیار کیا جائےگا۔

بھارت میں ’سبز انقلاب‘ کے بانی ایم ایس سوامی ناتھن نے کہا کہ یہ شاید دنیا میں غریبوں کی سب سے ’کفایتی‘تشریح ہے اور اسی وجہ سے ملک میں ایسے بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جنہیں مناسب خوراک نہیں مل پاتی۔

انہوں نے کہا کہ ’یہ حد اتنی کم ہےکہ نہ اس سے نیچے جانا ممکن ہے اور نہ اس پر گزارا کرنا۔‘

نئے تخمینوں کے لیے منصوبہ بندی کمیشن نے جو پیمانہ اختیار کیا ہے اس کے مطابق دیہی علاقوں میں چھ سو بہتر روپے( تقریباً بائیس روپے روز) اور شہری علاقوں میں آٹھ سو انسٹھ روپے( تقریباً اٹھائیس روپے روز) سے زیادہ ماہانہ خرچ کرنے والوں کو غریب نہیں مانا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ماہرین کے مطابق غربت کے لیے حکومتی پیمانہ درست نہیں ہے

دّلی جیسے بڑے شہر کے لیے یہ حد چونتیس روپے یومیہ سے کچھ زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں میں غریبوں کی تعداد تقریباً آٹھ فیصد اور شہری علاقوں میں چار اعشاریہ آٹھ فیصد کم ہوئی ہے۔

ریاست کے لیے الگ حد مقرر کی گئی ہے لیکن تمام ریاستوں کا اوسط دیہی علاقوں میں چھ سو تہتر اور شہری علاقوں میں آٹھ سو ساٹھ روپے ہے۔

غریبوں کی صحیح تعداد بھارت میں ایک انتہائی متنازع اور حساس معاملہ ہے کیونکہ حکومت کی بہت سے امدادی سکیموں سے وہ لوگ فائدہ نہیں اٹھا پائے جو غریبی کی لائن سے اوپر زندگی گزارتے ہیں۔

حکومت کے اپنے اعداد شمار کے مطابق ملک کی تقریباً تیس فیصد آبادی انتہایی غربت میں زندگی گزارتی ہے۔ حالانکہ نئے پیمانے کی وجہ سے غریبوں کی تعداد سات اعشاریہ تین فیصد کم ہوگئی ہے۔ یعنی دو ہزار دس میں غریبوں کی تعداد پینتیس کروڑ پچاس لاکھ تھی، پانچ سال پہلے کے مقابلے میں پانچ کروڑ کم۔

سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ غریبوں کی تعداد میں کمی کی وجہ تیز رفتار اقتصادی ترقی اور ایسی سرکاری سکیموں کا اطلاق ہے جن کے تحت غریب لوگوں کو روزگار فراہم کیا جاتا ہے۔

لیکن غریبی کے خاتمے کی کوششوں کے ملک بھر میں یکساں نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ ہماچل پردیش، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اڑیسہ، سکم، تمل ناڈو اور اترا کھنڈ میں غریبوں کی تعداد کافی کم ہوئی ہے لیکن آسام، میگھالیہ، منی پور، میزورم اور ناگالینڈ جیسی شمال مشرقی ریاستوں میں غربت بڑھی ہے۔

بہار، چھتیس گڑھ اور اتر پردیش میں کوئی خاص فرق دیکھنے میں نہیں آیا ہے حالانکہ یہ ریاستیں پہلے سے ہی بہت غریب مانی جاتی ہیں۔

گزشتہ برس عالمی بنک نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ بدعنوانی اور بدانتظامی کی وجہ سے غریبی کی خاتمے کے لیے حکومت کی کوششوں کا خاص فائدہ نہیں ہو رہا ہے لیکن منصوبہ بندی کمیشن کے رکن مہیر شاہ نے ایک اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مدت میں حکومت نے فلاحی سکیموں پر بڑے پیمانے پر رقم خرچ کی ہے، لہذٰا یہ نتائج اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں۔

بہرحال، مسٹر شاہ کا کہنا ہے کہ ان اعداد و شمار کو حکومت کی امدادی سکیموں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

اسی بارے میں