شامی حکومت بہت غلطیاں کر رہی ہے: روس

تصویر کے کاپی رائٹ AP

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لووروف نے کہا ہے کہ شامی قیادت ملک میں جاری بحران کے دوران غلطیاں کر رہی ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لووروف کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ ماسکو دمشق پر اپنا سخت موقف اپنا رہا ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ صدر بشار الاسد کی حکومت نے گزشتہ سال ملک میں شروع ہونے والے پر امن مظاہروں پر غلط رویہ اپنایا۔

انہوں نے مذید کہا کہ ماسکو اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے امن منصوبے کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے جس کے مطابق فریقین فوری طور پر جنگ بندی کریں، امداد کی رسائی کو ممکن بنایا جائے اور بحران کے حل کے لیے بات چیت کا سیاسی عمل شروع کیا جائے۔

سرگئی لووروف نے مقامی ریڈیو کو پہلے سے ریکارڈ کیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا ’ہمیں یقین ہے کہ شامی قیادت نے ملک میں شروع ہونے والے پرامن مظاہروں پر غلط ردِ عمل اپنایا۔‘

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے شام کا تنازع بہت شدت اختیار کر چکا ہے کیونکہ شامی قیادت نے ہم سے کیے گئے متعدد وعدوں کے باوجود، اس بحران کے دوران غلطیاں کر رہی ہے۔

روسی وزیرِ خارجہ نے اپنے لبنانی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کے بعد نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل شام کے بحران کے خاتمے کے لیے کوفی عنان کے امن منصوبے کی حمایت کرے۔

واضح رہے کہ روس نے بین الاقوامی امدادی تنظیم آئی سی آر سی کے ہمراہ شام سے انسانی ہمدری کی بنیاد پر روزانہ دو گھنٹے کی جنگ بندی کی اپیل کی تھی۔

روس کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے شائع ہونے والے ایک بیان میں شام میں تمام مسلح گروہوں سے جنگ بندی پر فوری عمل کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

اس سے پہلے منگل کو امریکی ہومین رائٹس واچ نے شام کے مسلح گروہوں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام عائد کیا تھا۔

روس شام کا اہم اتحادی رہا ہے اور اس نے چین کے ساتھ ملکر اقوامِ متحدہ کی جانب سے شام کے صدر بشار الاسد کے اقدامات پر مذمتی قرار داد کی دو بار مخالفت کی تاہم مبصرین کو یقین ہے کہ اب ماسکو کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔

شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ سیفر کوفی عنان نے گزشتہ چند ہفتے شام میں گزارے جس کے دوران انہوں نے فریقین سے ملک میں جاری تشدد کو فوری طور پر بند کرنے، متاثرہ علاقوں میں امداد کی رسائی اور تنازع کے حل کے لیے سیاسی مذاکرات شروع کرنے پر زور دیا تھا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک آٹھ ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں