’سارجنٹ بیلز کے خلاف ثبوت نہیں ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سولہ افغان شہریوں کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار امریکی فوجی کے وکیل نے کہا ہے کہ ان کے مؤکل کے خلاف ثبوت نہیں ہیں۔

جان ہنری براؤن کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل سٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز کے خلاف فارینسک ثبوت نہیں ہیں اور نہ ہی انہوں نے اعترافِ جرم کیا ہوا ہے۔

انہوں نے ان خبروں کی بھی تردید کی ہے کہ اڑتیس سالہ سارجنٹ بیلز کو مالی مشکلات کا سامنا تھا اور ایسی افواہوں کا اس مقدمے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔

امریکی ریاست کینساس میں امریکی اڈے پر سارجنٹ بیلز کے ساتھ ملاقات کے بعد ہنری براؤن نے کہا ’ہم نے تمام الزامات سنے ہیں۔ میرے خیال میں حکومت نے کچھ ثابت نہیں کیا۔‘

ہنری براؤن نے کہا کہ وہ اب افغانستان جائیں گے اور شواہد اکٹھے کریں گے۔

سارجنٹ بیلز اور ان کی اہلیہ نے دو جائیدادیں خریدی تھیں اور ان جائیدادوں کی ادائگیاں کرنے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔

سارجنٹ بیلز کے وکیل کا کہنا ہے کہ مالی مشکلات کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ’یقیناً مالی مشکلات ہوتی ہیں، مجھے بھی ہیں اور ننانوے فیصد امریکیوں کو ہیں۔ آپ لوگوں کو صرف اس لیے نہیں مارنے نکل جاتے کہ آپ کو مالی مشکلات کا سامنا ہے۔‘

سارجنٹ بیلز کی اہلیہ کیریلین نے ایک بیان میں مقتولین اور ان کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جو ہوا ہے وہ اس انسان کا کام نہیں ہے جسے وہ جانتی ہیں اور پسند کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ سولہ افغان شہریوں کے قتل کے باعث امریکہ اور افغانستان کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں اور نیٹو کے افغانستان سے جلد انخلاء کی باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

اڑتیس سالہ سارجنٹ بیلز کو کویت کے راستے امریکی ریاست کینساس لایا گیا جہاں انہیں لیون ورتھ میں واقع فوجی نظر بندی کے کیمپ میں قیدِ تنہائی میں رکھا جا رہا ہے۔ ان پر فردِ جرم رواں ہفتے کے دوران عائد کر دی جائے گی۔

اگرچہ افغان حکام کا کہنا ہے کہ اس قتلِ عام میں ایک سے زیادہ امریکی فوجی ملوث تھے لیکن الزام صرف سارجنٹ رابرٹ بیلز پر ہی عائد کیا گیا ہے۔

ادھر افغان صدر حامد کرزئی نے نیٹو سے کہا ہے کہ وہ افغانستان کے دیہات اور دیگر دیہی علاقوں سے نکل جائیں اور ملکی سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فوجیوں کو سنبھالنے دیں تاکہ شہریوں کی ہلاکتوں پر قابو پایا جا سکے۔

اسی بارے میں