برما میں ضمنی انتخابات: امریکی، یورپی مبصروں کو دعوت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برما نے امریکہ اور یورپی یونین کو یکم اپریل کو ہونے والے ضمنی انتخابات میں اپنے مبصر بھیجنے کی دعوت دی ہے۔

اس سے قبل منگل کو برما نے جنوب مشرقی ایشیائی ایسوسی ایشن آسیان کو بھی ایسی ہی دعوت دی تھی۔

ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ برما نے انتخابات کی نگرانی کے لیے مبصرین کو اپنے ہاں آنے کی اجازت دی ہو۔

رنگون میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ برما نے یورپی اتحاد اور امریکہ کے مبصروں کو یکم اپریل کے ضمنی انتخابات کے موقع پر اپنے ملک بلایا ہے۔

ان ضمنی انتخابات میں کل اڑتالیس نشستوں کے لیے پولنگ ہوگی اور جموریت نواز رہنما آنگ سان سوچی ان میں سے ایک نشست پر امیدوار ہیں۔

آسیان کے سیکریٹری جنرل نے اپنے ایک ٹویٹ پیغام میں بتایا کہ ان انتخابات کے موقع پر جن ملکوں سے مبصروں کو آنے کی دعوت دی گئی ہے ان میں امریکہ، یورپی یونین، چین اور شمالی کوریا شامل ہیں۔

اس طرح اب تک کل ساٹھ مبصرین کو انتخابات کے موقع پر برما آنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ ان مبصرین کو اڑتالیس نشستوں میں سے کتنی نشستوں تک رسائی حاصل ہوگی۔

بنکاک میں بی بی سی کے نامہ نگار جونا فشر کا کہنا ہے کہ برما کی جانب سے امریکہ اور یورپی یونین کے علاوہ دیگر ممالک سے انتخابات کے موقع پر مبصر بلانا اس بات کا ایک اور عندیہ ہے کہ برما میں حالات کتنی جلدی تبدیل ہو رہے ہیں۔

برما میں حکام چاہتے ہیں کہ وہاں کی جانے والی اصلاحات کے نہ صرف گواہان ہوں بلکہ ان کی عالمی سطح پر تصدیق بھی ہو۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق ان انتخابات کی حیثیت بہت زیادہ حد تک علامتی ہے۔ ان میں آنگ سان سوچی سنہ انیس سو نوے کے بعد پہلی بار شرکت کر رہی ہیں۔

اگر ان انتخابات کو آزاد اور منصفانہ سمجھا جاتا ہے تو برما پر عائد عالمی پابندیاں ختم ہونے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں