شام امن منصوبے پر تعاون کرے: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

امریکہ نے شام سے کہا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے امن مشن کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نے شام کے صدر بشارالاسد سے استدعا کی ہے کہ وہ قوامِ متحدہ کے ساتھ تعاون کریں یا پھر دباؤ اور تنہائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے روس اور چین کی حمایت سے ادارے کے ایلچی کوفی عنان کی جانب سے پیش کیے جانے والے امن منصوبہ کی تائید کر دی ہے۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے شام میں فوری جنگ بندی کے خاتمے کے لیے ایک امن منصوبہ پیش کیا تھا جس کے مطابق فریقین فوری طور پر جنگ بندی کریں، امداد کی رسائی کو ممکن بنایا جائے اور بحران کے حل کے لیے بات چیت کا سیاسی عمل شروع کیا جائے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بدھ کو ایک بیان میں کوفی عنان کے امن منصبوبے کی مکمل تائید کی ہے۔

اقوامِ متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے صدر بشار الاسد پر کوفی عنان کے ساتھ تعاون کرنے کے دباؤ میں اضافہ ہو جائے گا۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی طاقتیں شام کے خلاف بیان کو نرم کرنے پراس لیے رضا مند ہوئیں تاکہ چین اور روس کی حمایت حاصل کی جا سکے جنہوں نے اس سے پہلے نسبتاً سخت قرار دار کے مسودے کو ویٹو کرنے کی دھمکی دی تھی۔

اس سے پہلے اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے متنبہ کیا تھا کہ شام کا بحران حل نہ ہونے کے برے اثرات مرتب ہوں گے۔

انڈونیشا میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا دنیا شام کے مسئلے کو نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم شام کے بحران کو حل کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک آٹھ ہزار سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں