مالی میں باغی فوجیوں کا اقتدار پر قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مغربی افریقہ کے ملک مالی میں صدارتی محل پر حملے کے کئی گھنٹے بعد باغی فوج نے سرکاری ٹیلی وژن پر آکر اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

باغیوں نے ملک بھر میں کرفیو کا اعلان کرتے ہوئے آئین معطل کر دیا ہے۔

مالی کے منحرف فوجوں نے بدھ کے روز بغاوت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ان کا حکومت کے حامی فوجیوں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

منحرف فوجیوں کا کہنا ہے کہ حکومت نسلی گروہوں سے نمٹنے کے لیے انہیں مناسب ہتھیار فراہم نہیں کر رہی۔

بدھ کے روز باغیوں نے بماکو کے ٹیلی وژن اور ریڈیو پر قبضہ کرکے اسے بند کر دیا تھا۔

کئی گھنٹوں تک مالی کی روایتی موسیقی اور رقص کے مناظر نشر کیے جانے کے بعد فوجیوں کا ایک گروہ جمعرات کی صبح ٹیلی وژن پر آیا۔ ان فوجیوں نے خود کو ملک میں بحالی، جمہوریت اور ریاست کی تنظیم ِ نو کی کمیٹی قرار دیا۔

ان فوجیوں کے ترجمان لیفٹیننٹ امادو کونارے کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’ایک نااہل حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے۔‘

تاحال ملک کے صدر کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب بدھ کے روز ملک کے وزیرِ دفاع نے شمالی فوجی بیرکوں کا دورہ شروع کیا۔

معائنے کے دوران فوجیوں نے ہوائی فائرنگ کی اور صدارتی محل کے گرد سکیورٹی میں خلل پیدا کیا۔ یہ فوجی حکومت کی جانب سے ملک کے شمال میں توریج بغاوت سے نمٹنے کے طریقہءکار سے ناخوش تھے۔ انہوں نے کئی مرتبہ باغیوں کے ساتھ بات چیت کی مخالفت کی تھی۔

دارالحکومت بماکو میں بدھ کے روز تمام دن دھماکوں کی آوازیں سنی جاتی رہیں۔ صدارتی محل کی حفاظت کے لیے بکتر بند گاڑیاں پہنچ گئی اور وہاں سے رات بھر گولیاں چلنے کی آوازیں آتی رہیں۔

مغربی افریقہ کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ حملے کے وقت صدر محل میں موجود تھے یا نہیں۔

اسی بارے میں