’امریکی فوجی قتل کے الزامات کا سامنا کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

امریکی محکمہ دفاع پینٹا گان کےحکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ افغانسان میں سولہ شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے امریکی سپاہی قتل کے سترہ الزامات کا سامنا کریں گے۔

واضح رہے کہ سٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز نے گیارہ مارچ کو مبینہ طور پر افغانسان کےصوبہ قندھار کے دو دیہاتوں الکزئی اور نجیبان کے مکانوں میں داخل ہو کر سولہ افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ مرنے والے افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔

افغان حکام کا اصرار ہے کہ قندھار میں ہونے والی کارروائی میں ایک سے زیادہ امریکی فوجی ملوث تھے تاہم امریکی حکام کے مطابق صرف ایک امریکی فوجی کی تنِ تنہا کارروائی میں سولہ افغان شہری ہلاک ہوئے۔

اڑتیس سالہ سارجنٹ بیلز کو گزشتہ جمعے کویت کے راستے امریکی ریاست کینساس لایا گیا جہاں انہیں لیون ورتھ میں واقع فوجی نظر بندی کے کیمپ میں قیدِ تنہائی میں رکھا گیا تھا۔

سارجنٹ بیلز کے وکیل جان ہنری براؤن نے اس اطلاعات کی تردید کی ہے کہ ان کے مؤکل نے شراب کے نشے میں سولہ افغان شہریوں کو ہلاک کیا تاہم اس سے پہلے ان کا کہنا تھا کہ ملزم کو اس واقعے سے متعلق بہت کم یاد ہے۔

واضح رہے کہ سولہ افغان شہریوں کے قتل کے باعث امریکہ اور افغانستان کے تعلقات متاثر ہوئے ہیں اور نیٹو کے افغانستان سے جلد انخلاء کی باتیں ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

پینٹا گان کا کہنا ہے کہ اگر سارجنٹ بیلز مجرم پائے گئے تو انہیں سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔

اس واقعہ کے بعد طالبان نے امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات ختم کردیے تھے۔

افغانستان میں ہونے والے یہ ہلاکتیں اس وقت ہوئیں جب گزشتہ ماہ ہی کابل میں قرآن کے نسخے جلائے جانے کے بعد امریکہ کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا تھا۔

اگرچہ امریکی حکام نے قرآن جلائے جانے کے واقعہ پر معذرت کی تھی تاہم وہ افغانستان میں ہونے والے مظاہروں کو کچلنے میں ناکام رہے تھے۔ان مظاہروں میں چھ امریکیوں سمیت کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوئے تھے۔

افغان صدر حامد کرزئی نے اس واقعہ کے بعد نیٹو سے کہا تھا کہ وہ افغانستان کے دیہات اور دیگر دیہی علاقوں سے نکل جائیں اور ملکی سکیورٹی کی ذمہ داری افغان فوجیوں کو سنبھالنے دیں تاکہ شہریوں کی ہلاکتوں پر قابو پایا جا سکے۔

اسی بارے میں