مالی کے باغی فوجیوں کی عالمی سطح پر مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ

مغربی افریقہ کے ملک مالی کے صدر عمادو طومانی طور کی حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجیوں کی بین الاقوامی سطح پر سخت مذمت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی مالی میں آئین کی حکمرانی بحال کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔

ادھر ورلڈ بینک اور افریقن ڈویلپمینٹ بینک نے کہا ہے کہ وہ مالی میں اپنے بعض آپریشنز معطل کررہے ہیں۔

مالی کے باغیوں کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ قومی اتحاد اور یکجہتی بحال ہوتے ہی بغاوت کرنے والے فوجی ملک کو واپس جمہوریت کی طرف لے جائیں گے۔

صدر عمادو طومانی طور کے بارے میں اب تک یہ واضح نہیں کہ وہ کہاں ہیں، لیکن قومی ٹیلی وژن پر ایک بیان میں فوجی انقلاب کے قائد نے کہا ہے کہ صدر کی صحت ٹھیک ٹھاک ہے۔

مالی میں صدارتی محل پر حملے کے کئی گھنٹے بعد باغی فوج نے سرکاری ٹیلی وژن پر آکر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ باغیوں نے ملک بھر میں کرفیو کا اعلان کرتے ہوئے آئین معطل کر دیا۔

مالی کے منحرف فوجوں نے بدھ کے روز بغاوت کا اعلان کردیا تھا۔ منحرف فوجیوں کا کہنا ہے کہ حکومت نسلی گروہوں سے نمٹنے کے لیے انہیں مناسب ہتھیار فراہم نہیں کر رہی۔

بدھ کے روز باغیوں نے بماکو کے ٹیلی وژن اور ریڈیو پر قبضہ کرکے اسے بند کر دیا تھا۔ کئی گھنٹوں تک مالی کی روایتی موسیقی اور رقص کے مناظر نشر کیے جانے کے بعد فوجیوں کا ایک گروہ جمعرات کی صبح ٹیلی وژن پر آیا۔ ان فوجیوں نے خود کو ملک میں بحالی، جمہوریت اور ریاست کی تنظیم ِ نو کی کمیٹی قرار دیا۔

ان فوجیوں کے ترجمان لیفٹیننٹ امادو کونارے کا کہنا تھا کہ انہوں نے ’ایک نااہل حکومت کا خاتمہ کر دیا ہے۔‘

باغی فوجی حکومت کی جانب سے ملک کے شمال میں توریج بغاوت سے نمٹنے کے طریقہءکار سے ناخوش تھے۔ انہوں نے کئی مرتبہ باغیوں کے ساتھ بات چیت کی مخالفت کی تھی۔

اسی بارے میں