جاپان میں میزائل حملے سے بچاؤ کی تیاری

شمالی کوریا راکٹ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شمالی کوریا نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ اپنے آنجہانی لیڈر کم سنگ کی سوویں جنم دن پر راکٹ لانچ کرنا چاہتا تھا

شمالی کوریا کی جانب سے آئندہ ماہ طویل فاصلے تک مارے کرنے والے راکٹ کا تجربہ کیے جانے کے اعلان کے جواب میں جاپان نے میزائل کے دفاعی نظام کی تیاری کا حکم دیا ہے۔

اس بات کا اعلان جاپان کے وزیر دفاع نا‎ؤکی تناکا نے کیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ دفاعی نظام اوکیناوا جزیرے کے قریب قائم کیا جائے گا تاکہ جاپانی علاقوں کو نقصان پہنچانے کی غرض سے آنے والے راکٹوں کا مار گرایا جا سکے۔

شمالی کوریا کا اپنے راکٹ کے بارے میں کہنا ہے کہ یہ خلاء میں سیٹیلائٹ نظام نصب کرنے کا کام کرے گا لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو یقین ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے لانچ کیا جانے والے یہ راکٹ ایک میزائل ٹیسٹ سے پہلے کی جانے والی مشق ہے۔

گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے کہا تھا کہ اس راکٹ لانچ کے ساتھ وہ اپنے آنجہانی لیڈر کم II سنگ کا سوواں جنم دن منانا چاہتا تھا۔

اس اعلان کے بعد شمالی کوریا پر اس بات کے لیے تنقید کی گئی کہ اس راکٹ لانچ سے وہ اقوام متحدہ کے سیکورٹی کاؤنسل کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔

شمالی کوریا کی اس راکٹ لانچ کی مذمت میں جاپانی پارلیمان میں بھی ایک قرارداد پیش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جنوبی کوریا، چین، اور امریکہ نے مجوزہ راکٹ لانچ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکہ وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے اس راکٹ لانچ ’اشعال انگیز‘ قدم قرار دیا ہے۔ اقوام کے جنرل سیکریٹری بان کی مون نے کہا ہے کہ اس راکٹ لانچ سے شمالی کوریا کو ملنے والی امداد متاثر ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد میزائل کے تجربے کو منسوخ کردیا تھا۔ معاہدے کے مطابق شمالی کوریا کو دو لاکھ چالیس ہزار ٹن خوراک کی امداد دی جائے گی۔

امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر شمالی کوریا اس لانگ رینج میزائل کا تجربہ کرتا ہے تو امریکہ کے لیے شمالی کوریا کو ماضی میں ہوئے معاہدے کے تحت خوراک کی امداد دینا مشکل ہوگا۔

شمالی کوریا نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ سیٹلائٹ لے جانے والے راکٹ کا تجربہ بارہ سے سولہ اپریل کے درمیان ہوگا۔

سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی کوریا پہلے ہی دو تجرباتی سیٹلائٹ لانچ کرچکا ہے۔

اسی بارے میں