مصر: فٹ بال ٹیم پر پابندی، احتجاج

پورٹ سعید فٹ بال سٹیڈیم تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption فروری میں ہونے والے واقعہ کی تفتیش جاری ہے

مصر کی سرکاری میڈیا کے مطابق ملک کی بہترین فٹ بال ٹیم المصری پر پابندی کے اعلان کے بعد جھڑپوں میں گولی لگنے سے ایک تیرہ سالہ بچہ ہلاک جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ ہلاکت اس وقت ہوئی جب مصر کی فٹ بال ٹیم المصری کے ناراض حامی سیکورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

مصر کی مقبول ترین فٹ بال ٹیم المصری پر گزشتہ مہینے اس کے سٹیڈیم میں ہونے والے تشدد کے بعد دو سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

گزشتہ فروری میں پورٹ سعید میں میں فٹبال میچ کے بعد دو ٹیموں کے حامیوں میں لڑائی ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں چوہتر افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئےتھے۔

جیتنے والی ٹیم المصری کے حامیوں نے میچ ختم ہونے کے بعد میدان میں داخل ہوکر اور ہارنے والی ٹیم الاھلی کے حامیوں پر حملہ کر دیا تھا۔

المصری پر پابندی کا مطلب ہے کہ اگلے برس کے آخر تک وہ کسی بھی ٹورنامنٹ میں حصہ نہیں لے پائے گی۔

اس فیصلے کے خلاف جمعہ کو المصری کے ہزاروں حامیوں نے پورٹ سعید کی سڑکوں پر احتجاج کیا۔ پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے ہوا میں گولی چلائی۔

مصر کے سرکاری اخبار الاحرام کا کہنا ہے کہ تیرہ سالہ بچے کو کمر پر گولی لگی تھی اور اس نے ہسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا۔ اخبار کے مطابق اس واقعہ میں کئی درجن افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں