فرانس: ’حملوں میں بھائی کی مدد نہیں کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرانس کے شہر تولوز میں ہلاک کیے جانے والے اسلامی شدت پسند محمد مراح کے بھائی عبدالقادر مراح سے فرانسیسی پولیس پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ محمد مراح کے بھائی عبدالقادر مراح کے مطابق انھوں نے سات افراد کے قتل میں اپنے بھائی کی مدد نہیں کی۔

عبدالقادر مراح کو ان کی ساتھی سمیت داخلہ امور کی انٹیلی جنس ایجنسی ڈی سی آر آئی کے پیرس میں واقع ہیڈکواٹر میں تفتیش کے لیے لایا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق محمد مراح کے بھائی عبدالقادر نے پولیس کو بتایا تھا کہ ’ان کو اپنے بھائی کے اقدام پر فخر ہے۔‘

پولیس یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ کیا عبدالقادر مراح کا بھی اس پورے واقعے میں کوئی کردار ہے یا نہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عبدالقادر مراح کو ان کی خاتون دوست یا بیوی کے ساتھ رواں ہفتے کے آغاز پر گرفتار کیا گیا تھا۔

اے ایف پی کے مطابق پولیس اور پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ عبدالقادر مراح اسلامی شدت پسند ہے اور اس کی گاڑی سے دھماکہ خیز مواد کے نشانات ملے ہیں۔

عبدالقادر سے کئی سال پہلے تولوز کے علاقے سے نوجوانوں کو عراق بھیجنے والے ایک گروہ سے تعلق کی بنا پر تفتیش کی گئی تھی تاہم اس وقت ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔

پولیس یونین کے ترجمان کرسٹوفر کرپن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ تفتیشی اہلکاروں نے عبدالقادر کے خلاف اتنے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں کہ جن سے پتہ چلتا ہے کہ انھوں نے فائرنگ کے واقعے میں اپنے بھائی محمد مراح کی مدد کی تھی۔

دوسری جانب ابھی تک ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ محمد مراح جن کی آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، کس طرح سے بڑی تعداد میں ہتھیار اور کرائے پر گاڑی حاصل کی۔

محاصرے کے دوران مبینہ طور پر محمد مراح نے پولیس کو بتایا تھا کہ انھوں نے سولہ ہزار سات سو ڈالر کے ہتھیار خریدے تھے۔

اس سے پہلے فرانسیسی شہر تولوز میں سات افراد کی ہلاکت میں مطلوب شخص کو پولیس کے سنائپر نے بتیس گھنٹے کے محاصرے کے بعد گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

فرانس کے شہر تولوز میں پولیس نے بتیس گھنٹے قبل اس شخص کے فلیٹ کا محاصرہ کر لیا تھا جس میں محمد مراح نامی شخص موجود تھا جس نے یہودی بچوں، ایک یہودی راہب اور تین فوجیوں کو ہلاک کیا تھا۔

حکام کے مطابق مشتبہ حملہ آور محمد مراح نے کئی بار پاکستان اور افغانستان کا دورہ کیا اور اس کا دعویٰ کیا تھا کہ وہ جنگجو ہے اور اس کا تعلق القاعدہ سے ہے۔

افغان حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد مراح کو سنہ دو ہزار سات میں افغان صوبے قندھار میں بم نصب کرنے پر جیل بھیجا تھا تاہم وہ سنہ دو ہزار آٹھ میں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا۔

دوسرے افغان ذرائع نے اس دعوے پر شک کا اظہار کیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ قندھار جیل میں قید شخص اسی نام کا کوئی دوسرا شخص ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے منگل کو فرانس کے شہر تولوز میں ایک مسلح حملہ آور نے ایک یہودی سکول میں فائرنگ کر کے ایک ٹیچر اور تین بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں