’جوہری دہشت گردی کا خطرہ موجود ہے‘

صدر اوباما اور ہو جنتاؤ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین خطے میں بڑھتے تناؤ کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے

امریکی صدر براک اوباما نے جوہری دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بین القوامی تعاون بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جنوبی کوریا میں جوہری ہتھیاروں کے تحفظ سے متعلق جاری اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر جوہری ہتھیار دہشت گرد گروہوں کے ساتھ لگ جانتے ہیں تو اس کے نتائج بہت خطرناک ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا ’اب بھی بہت سے شر پسند عناصر جوہری مواد کی تلاش میں ہیں اور اس کے لیے بہت زیادہ نہیں چاہئیے، یہ مٹھی بھر مواد بھی لاکھوں معصوم لوگوں کی جان لے سکتا ہے۔ ‘

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ مزید ممالک بھی اس کے خلاف عملی اقدمات کے لیے آگے بڑھے ہیں۔

’اس اجلاس کے نتیجے میں مزید معاہدے کیے جائیں گے اور ہمارے مزید لوگ جوہری دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ ہو جائیں گے۔‘

امریکی صدر نے مزید کہا کہ’یہ وہ چیلنجز ہیں جو پوری دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتے ہیں اور ان سے صرف اسی صورت میں نمٹا جا سکتا ہے جب ہم بین القوامی برادری کی طرح کام کریں۔‘

اجلاس سے قبل امریکی صدر براک اوباما اور چینی صدر ہو جنتاؤ کی ملاقات میں چین اور امریکہ نے اس بات پر رضامندی ظاہر کہ اگر شمالی کوریا نے متنازع راکٹ لانچ منصوبے پر کام جاری رکھا تو وہ دونوں کسی بھی اشتعال انگیزی کا جواب مربوط طریقے سے دیں گے۔

شمالی کوریا نے کہا ہے کہ دور مار کرنے والا میزائل سیٹیلائٹ لے کر جائے گا۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ لانچ ایک میزائل کا تجربہ ہے اور اس طرح اقوامِ متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی ہے۔

یہ راکٹ لانچ اپریل میں متوقع ہے۔

ایک امریکی اہلکار نے کہا ہے کہ صدر ہو جنتاؤ نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ وہ اس تنازعے کو بہت سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور انہوں نے شمالی کوریا کے رہنماؤں کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر کم کرنے کے لیے تیار ہے۔

یہ بات انہوں نے جوہری مواد اور ہتھیاروں کے تحفظ کے بارے میں، جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہونے والے سربراہ اجلاس سے قبل کہی۔

انہوں نے شمالی کوریا اور ایران سے براہِ راست اپیل کی کہ وہ جوہری پروگرام ترک کر دیں اور تصادم سے گریز کریں۔

اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے وزرائے اعظم بھی شریک ہیں۔

صدر اوباما نے کہا کہ اگرچہ امریکہ کو اپنے دفاع کے لیے جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہے لیکن اِنہیں کم کرنا ممکن ہے جس کے لیے روس کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اجلاس کے دوران صدر براک اوباما اور بھارتی وزیرِ اعظم منموہن سنگھ کی بھی ملاقات ہوئی

انہوں نے کہا ’ہم روس کے ساتھ ایسے اقدامات کے بارے میں مذاکرات کریں گے جو ہم نے پہلے کبھی نہیں کیے۔ ہم اپنے سٹریٹجِک جوہری ہتھیاروں کے ذخائر کم کرنے پر بات کریں گے۔ میں مئی میں صدر پیوتن سے ملاقات میں، ان کے سامنے یہ پیشکش رکھوں گا۔ یورپ میں میزائل کا دفاعی نظام بھی ایجنڈے میں شامل ہو گا اور میرے خیال میں یہ معاملہ، تنازعے نہیں بلکہ تعاون کے لیے اٹھایا جائے گا۔ مجھے یقین ہے کہ ہم مل کر، اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخائر کم کر سکتے ہیں۔‘

جوہری تحفظ کی دوسری سربراہی کانفرس پیر کے روز جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہو رہی ہے۔

اس کانفرس میں امریکہ، روس، چین، جرمنی اور فرانس سمیت پچاس سے زائد ممالک کے سربراہان مملکت شرکت کر رہے ہیں۔

اس کانفرس میں توجہ دہشت گردوں یا شدت پسند تنظیموں کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے پر مرکوز ہو گی۔

پاکستان کے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی سیول پہنچ گئے ہیں جہاں وہ امریکی صدر براک اوباما سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔

جوہری تحفظ کانفرنس پہلی بار دو ہزار دس میں منعقد ہوئی۔ امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے کروائی گئی اس کانفرنس کا ہدف یہ رکھا گیا تھا کہ چار سال کے اندر تمام ایٹمی مواد کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

اس سمت میں کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے لیکن یہ ترقی سست رو ہے۔ اس کا ایک سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ دو ہزار دس میں ہونی والی پہلے جوہری تحفظ کی کانفرنس میں ابتدائی ہدف واضح نہیں تھا اور نہ اس کے لیے کوئی منصوبہ تیار کیا گیا تھا۔

سیول کانفرنس میں ایسے تابکار مادوں پر بھی بات ہو رہی ہے جن کا استعمال سخت گیر ’ڈرٹي بم‘ بنانے کے لیے کر سکتے ہیں۔ وہ بم جو تابکاری پھیلاتا ہے لیکن اس میں دھماکہ نہیں ہوتا۔

حالانکہ بی بی سی کے سفارتی امور کے نامہ نگار جوناتھن مارکس کا کہنا ہے کہ سول کانفرنس میں کچھ ٹھوس کامیابی ملنے کے آثار کم ہیں۔

اسی بارے میں