2011: سزائے موت میں غیر معمولی اضافہ

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ کے مطابق چین میں سب سے زیادہ سزائے موت دی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ سال دو ہزار گیارہ کے دوران دنیا بھر میں سزائے موت میں بہت زیادہ اضافہ دیکھا گیا اور ان میں زیادہ تر سزائیں وسطی ایشیا میں دی گئیں۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل نے اپنی ایک سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس اضافے کے لیے عراق، ایران اور سعودی عرب سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔

ایمنٹسی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے صرف چین میں سزائے موت کے مجرموں کی تعداد دنیا کے تمام ممالک یہ سزا پانے والے افراد سے زیادہ ہے۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اب بہت کم ممالک میں سزائے موت پر عمل درآمد ہوتا ہے۔

تنظیم کی مطابق متعدد ممالک میں سخت سزاؤں کا رجحان گذشتہ دہائی کے مقابلے میں ایک تہائی تک کم ہو گیا ہے۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل کے جنرل سیکرٹری سلیل شیٹی نے بی بی سی کو بتایا ’صرف بیس ممالک میں سزائے موت دی جاتی ہے یعنی ایک سو اٹھہتر ممالک میں یہ سزا نہیں دی جاتی۔‘

منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا کہ دو ہزار گیارہ میں بیس ممالک میں چھ سو چھہتر لوگوں کو سزائے موت دی گئی۔ جبکہ دو ہزار دس میں یہی تیئیس ممالک میں تعداد پانچ سو ستائیس تھی۔

ایمنٹسی اب چین سے متعلق اعداد و شمار شائع نہیں کرتی کیونکہ وہاں یہ اعداد حکومتی راز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ چین میں یہ تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔

تنظیم کے مطابق مشرقِ وسطی میں تصدیق شدہ سزائے موت کی تعداد پچاس فیصد اضافے کے ساتھ پانچ سو اٹھاون ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ایران میں ہیں جہاں تین سو ساٹھ لوگوں کو سزائے موت دی گئی۔ یہ زیادہ تر سزائیں انسدادِ منشّیات کے قانون کے تحت سنائیں گئیں۔

سعودی عرب میں اس برس بیاسی لوگوں کو موت کی سزا دی گئی جبکہ گذشتہ برس یہ تعداد ستائیس تھیں۔ تاہم عراق میں اڑسٹھ لوگوں کو سزائے موت دی گئی جہاں دو ہزار دس میں صرف ایک شخص کو سزائے موت دی گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق اسی اثناء میں لیبیا، شام اور یمن میں انقلاب کے دوران وہاں سزائے موت کے واقعات کی صحیح تعداد کے حصول میں مشکل ہوئی۔

تنظیم نے سزائے موت کو شرمناک فعل قرار دیتے ہوئے امریکہ کی بھی اس معاملے مزمت کی۔ گذشتہ برس سزائے موت دینے والوں میں امریکہ واحد مغربی جمہوری ملک تھا۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل کے جنرل سیکرٹری سلیل شیٹی کا کہنا تھا کہ ’سزائے موت دینے والے بڑے ممالک میں چین اور ایران ہیں۔ اس کے بعد شمالی کوریا، عراق، سعودی عرب، یمن، صومالیہ اور بہت افسوس کے بعد ریاست ہائے متحدہ امریکہ آتا ہے۔‘

دنیا میں سخت ترین سزائیں دینے والے ممالک میں امریکہ کا نمبر پانچواں ہے جہاں گذشتہ برس تینتالیس افراد کو سزائے موت دی گئی۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل نے چین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اعداد و شمار ظاہر کرے تاکہ اُس کے اس دعوے کی تصدیق ہو سکے کہ اس نے سزائے موت میں کمی کے لئے اپنے قانون میں تبدیلیاں کی ہیں۔

اسی بارے میں