مسلمان لڑکیاں بھی عالمی سطح پر فٹبال کھیل سکیں گی

تصویر کے کاپی رائٹ

ہالینڈ کی ایک ڈیزائینر نے حجاب کا ایک ایسا نمونہ تیار کیا ہے جس کےبارے میں ان کا خیال ہے کہ فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا اپنی پابندی واپس لینے پر غور کر سکتی ہے۔

فیفا کی پابندی کی وجہ سے کوئی بھی لڑکی یا عورت حجاب پہن کر فٹبال کے کسی عالمی مقابلے میں حصہ نہیں لے سکتی۔

یہ پابندی محض حفاظتی تقاضوں ہی کی بنا پر نہیں لگائی گئی بلکہ اس ضابطے کی بنا پر بھی لگائی گئی ہے جس کے تحت کھلاڑیوں کو مذہبی حوالہ رکھنے والی علامتوں کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ یہ پابندی اس انتہائی مقبول کھیل کی اعلٰی ترین سطح پر عدم مساوات کو ہوا دے گی۔

پابندی کے خلاف کھلاڑیوں کے حجاب پہنے کی حمایت کے لیے فیس بُک پرlet us play کےعنوان سے بنائے جانے والے صفحے کو اب تک ساٹھ ہزار لوگ پسند کر چکے ہیں۔

قیاس کیا جا رہا ہے کہ اگر ڈچ ڈیزائینر کا بنایا ہوا حجاب کا متبادل نمونہ قبول کر لیا گیا تو فیفا انہی گرمیوں میں اپنی پابندی واپس لے لے گی۔

حجاب پر پابندی اس وقت لگائی گئی جب ایرانی ٹیم نے حجاب اتار کر کھیلنے سے انکار کر دیا تھا اور فیفا نے اسے نااہل قرار دے دیا تھا۔

اس معاملے پر ایرانی صدر احمدی نژاد نے فیفا کے اقدام کو آمرانہ اور نوآبادیاتی سوچ کا حامل قرار دیا تھا۔

خود فیفا کے اپنے اعداو شمار کے مطابق دنیا بھر میں اس وقت تین کروڑ کے لگ بھگ عورتیں اور لڑکیاں فٹبال کھیلتی ہیں اور اس تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن خدشہ یہ ہے کہ اس پابندی سے صرف مسلمان لڑکیاں ہی متاثر ہوں گی۔

گذشتہ سال فیفا کے نائب صدر اردن کے شہزادہ علی بن الحسین نے فیفا کے لیے قانون سازی کرنے والی کمیٹی ایفاب کے ارکان کو یہ بات سمجھانے میں کامیابی حاصل کر لی کہ حجاب ایک ثقافتی چیز ہے نہ کہ مذہبی علامت۔

اب اگر حجاب کا کوئی نمونہ حفاظتی نقطۂ نظر سے بھی فیفا کے معیار پر پورا اترتا ہے تو اس بات کا قویٰ امکان ہے کہ فیفا پابندی ختم کر دے گی۔

ڈچ ڈیزائینر سنڈی وان ڈن بریمن کا کہنا ہے کہ ان کا تیار کردہ حجاب انتہائی محفوظ اور آرام دہ ہے۔

حجاب کے اس نمونے میں یہ خوبی ہے کہ روایتی حجاب کے برخلاف اس میں کوئی پن وغیرہ نہیں لگانی پڑتی اور یہ ایسے کپڑے کا بنایا گیا ہے کہ کھینچے جانے سے پھیل سکتا ہے۔

اس لیے یہ حفاظتی تقاضے بھی پورے کرتا ہے کیونکہ اگر کھیل کے دوران کوئی کھلاڑی کسی دوسرے کھلاڑی کا حجاب کھینچے گی تو یہ حجاب اس کے گلے کا پھندا نہیں بنے گا بلکہ اتر جائے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جتنی بھی لڑکیوں سے بات کی ہے وہ حجاب پہننا پسند کرتی ہیں اور ان سے بات کرنے سے پہلے مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ حجاب اپنی پسند سے پہنتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خود کو ڈھانپنے یا نہ ڈھانپنے کا فیصلہ کرنے کا حق صرف انفرادی طور پر ہر عورت ہی کو ہے نہ کہ کسی اور کو بشمول فیفا‘۔

اسی بارے میں