شام اب فائر بندی پر عمل شروع کرے: عنان

Image caption کوفی عنان نے شام کے صدر بشار الاسد سے بھی ملاقات کی۔

شام کے لیے اقوام متحدہ اور اور عرب لیگ کے مندوب کوفی عنان نے توقع کا اظہار کیا کہ شامی حکومت ان کے امن منصوبے پر فی الفور عمل کرے گی۔

کوفی عنان کے ترجمان احمد فوازی نے نے اخبار نویسوں کو بتایا ہے کہ ’عمل کی ڈیڈ لائن ہے اب۔‘

شامی حکومت نے منگل کو جس امن منصوبے کو تسلیم کیا ہے اس کے مطابق تمام فریق ہر طرح مسلح تشدد بند کر دیں گے اور اقوام متحدہ اس کی نگرانی کرے گی۔

اس دوران شام میں سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج کا شمالی صوبہ عدلب اور وسطی شہر حمص میں مسلح باغیوں سے تصادم ہوا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کے نگراں ادارے کا کہنا ہے کہ حمص صوبے میں بساس نامی گاؤں کے قریب دو افراد کے اس وقت ہلاک ہوئے ہیں جب ان کی کار پر فائرنگ کی گئی۔

جمعرات کو پورے ملک میں مجموعی طور پر کم از کم بیس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

فوازی کا کہنا ہے کہ حکومت کے جانب سے عنان امن منصوبہ قبول کرنے کے باوجود عملاً مسلح تصادم کے واقعات میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ ’یہی ہماری سب سے بڑی تشویش ہے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ کوفی عنان چاہتے ہیں کہ حکومت پہلے فائر بندی کرے اور پھر باغی ہتھیار ڈالیں۔

اسی بارے میں