حکومتوں کی انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنےکی کوشش

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption برطانوی محکمۂ داخلہ کے مطابق یہ بہت ضروری ہے کہ پولیس اور سکیورٹی سروسز انٹرنیٹ پر رابطوں کا ڈیٹا حاصل کر سکیں تا کہ سنگین جرائم اور دہشت گردی کی تحقیقات اور عوام کی حفاظت کی جا سکے۔

برطانیہ میں نئے مجوزہ قوانین کے تحت لوگوں کی ٹیلی فون کالیں، ای میل، ٹیکسٹ اور ویب سائٹوں کو دیکھنے کے عمل کی نگرانی کی جا سکے گی۔ اِن قوانین کے جلد نفاذ کا امکان ہے۔

اِن قوانین کے تحت انٹرنیٹ کمپنیاں انٹرنیٹ پر ہونے والے رابطوں اور سرگرمی کے بارے انٹیلیجنس ایجنسی ( جی سی ایچ کیو ) کو موقع پر ہی فوری رسائی فراہم کریں گی۔

برطانوی محکمۂ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ قوانین جرائم اور دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے بہت اہم ہیں لیکن شہری آزادی کے گروپوں نے اِن پر نکتہ چینی کی ہے۔

اِس سے پہلے برطانیہ میں لیبر پارٹی کی گزشتہ حکومت نے بھی اِسی طرح کی کوشش کی تھی جو سخت مخالفت کی وجہ سے ناکام ہو گئی تھی۔ اُس وقت حزبِ اختلاف کی کنزرویٹیو نے بھی ایسے قوانین کی مخالفت کی تھی۔

اِن نئے قوانین کا اعلان مئی میں ملکۂ برطانیہ کے خطاب میں کیا جا سکتا ہے لیکن خیال ہے کہ انٹیلیجنس ایجنسی ( جی سی ایچ کیو ) بغیر وارنٹ کے مطلوبہ معلومات کے لیے فوری رسائی حاصل نہیں کر سکے گی۔ تاہم انٹیلیجنس کے حکام یہ معلوم کر سکیں گے کہ کوئی شخص یا گروپ کس کے ساتھ، کتنی مرتبہ اور کتنے عرصے سے رابطے میں ہے۔

برطانوی محکمۂ داخلہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ کمیونیکیشن ڈیٹا تک مسلسل رسائی کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔

محکمۂ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بہت ضروری ہے کہ پولیس اور سکیورٹی سروسز خاص حالات میں انٹرنیٹ پر ہونے والے رابطوں کا ڈیٹا حاصل کر سکیں تا کہ سنگین جرائم اور دہشت گردی کی تحقیقات اور عوام کی حفاظت کی جا سکے۔

پاکستان

گزشتہ دنوں پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے ایک ایسے ویب فلٹر سسٹم کے لیے اخبارات میں ٹینڈر شائع کیا تھا جس کے ذریعے انٹرنیٹ پر کسی خاص طرح کے رابطوں اور ویب سائٹوں تک صارفین کی رسائی کو روکا جا سکے۔

پاکستان کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت سے منسلک ادارے نیشنل انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی ( آئی سی ٹی ) نے ایک کروڑ ڈالر کے اِس منصوبے کے لیے متعلقہ کمپنیوں سے تجاویز مانگی تھیں۔

لیکن پاکستان میں انسانی حقوق، سول سوسائٹی اور صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم، سرحدوں سے ماوراء رپورٹرز، کی مخالفت کے بعد اِس منصوبے پر فی الحال خاموشی اختیار کی گئی ہے۔

پاکستان میں ویب سائٹوں تک لوگوں کی رسائی روکنا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ملک میں ٹیلی مواصلات کا نگراں ادارہ پاکستان ٹیلی کمونیکیشن اتھارٹی ایک پالیسی کے تحت مختلف ایسی ویب سائٹوں کی چھان بین کرتا ہے جو ادارے کے مطابق غیر اسلامی، قابل اعتراض اور غیر اخلاقی مواد شائع کرتی ہیں۔

بھارت

بھارت میں فیس بک، گوگل اور کچھ دیگر انٹرنیٹ کمپنیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹوں پر ’قابل اعتراض‘ مواد کو روکنے میں ناکام رہی ہیں اور پھر ان کمپنیوں کو انہی بنیادوں پر مقدمات کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ دنوں دہلی ہائی کورٹ نےمائکرو سافٹ انڈیا کے خلاف اُس مقدمے کو خارج کردیا تھا جس میں اُس پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ اپنے ویب کے صفحات پر قابل اعتراض مواد شائع کر رہا ہے۔

مائکرو سافٹ، فیس بک اور یاہو اُن اکیس انٹرنیٹ کمپنیوں میں سے تھیں جن پر بھارت میں الزام لگایا گیا تھا کہ وہ ایسا مواد شائع کر رہی ہیں جس سے فرقہ وارانہ بے چینی پھیل سکتی ہے۔

مائکرو سافٹ کے خلاف مقدمہ بھارتی صحافی ونے رائے نے دائر کیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ونے رائے کوئی مستند ثبوت حاصل ہونے کی صورت میں یہ مقدمہ دوبارہ دائر کر سکتے ہیں۔

اس سے قبل دسمبر سن دو ہزار گیارہ میں ملک کے مواصلات کے وزیر کپل سبل نے کہا تھا کہ حکومت ’توہین آمیز‘ مواد کی ویب سائٹوں پر اشاعت روکنے کے لیے ضوابط مرتب کرے گی۔