فرانس:سخت گیر اسلامی موقف کے حامی ملک بدر

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جمعہ کو فرانس کی پولیس نے ایک کارروائی کے دوارن انیس اسلامی شدت پسندوں کو گرفتار کیا تھا۔

فرانس میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سخت گیر اسلامی موقف کے حامی دو افراد کو ملک بدر کر دیا ہے جبکہ مزید تین کو فرانس سے نکالنے کی کارروائی جاری ہے۔

فرانس کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دو مرد حضرات کو واپس ان کے ملک الجیریا اور مالی بھیج دیا گیا ہے جبکہ مزید تین کی ملک بدری کا حکم دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ فرانس میں یہ کارروائی ایک ایسے وقت کی جا رہی ہے جب حال ہی میں الجیریائی نژاد فرانسیسی شہری محمد مراح نے فائرنگ کر کے تین بچوں سمیت سات افراد کو ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد پولیس نے ان کے گھر کا محاصرہ کرکے ایک کارروائی میں انہیں ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعے کے بعدگزشتہ جمعہ کو فرانس کی پولیس نے ایک کارروائی کے دوارن انیس اسلامی شدت پسندوں کو گرفتار کیا تھا۔ ملک کی خفیہ ایجنسی نے مختلف شہروں میں کارروائیوں کے دوران بیشتر ہتھیار بھی ضبط کیے ہیں۔

فرانس کے وزیرِ داخلہ کلاڈ جانٹ کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ملک بدر کیے جانے والے افراد میں سے ایک مالی سے تعلق رکھنے والے امام تھے جو فرانس میں یہودیوں کے خلاف اور چہرے پر نقاب اوڑھنے کے حق میں تبلیغ کر رہے تھے۔

دوسرے شخص کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ علی بلہداد کا تعلق الجیریا سے ہے اور وہ پہلے ہی سنہ انیس سو چورانوے میں مراکیش میں حملے میں ملوث پائے جانے پر سزا کاٹ چکے ہیں۔

حکام کے مطابق مزید جن تین افراد کو ملک بدر کیا جا رہا ہے ان میں ترکی اور سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے دو امام اور ایک مشتبہ تیونسی شدت پسند ہے

اسی بارے میں