شامی حکومت جنگ بندی پر’رضامند‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سفارتکاروں کے مطابق اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے کہا ہے کہ شام کی حکومت دس اپریل سے جنگ بندی اور چھ نکاتی امن منصوبے پر عملدآمد کے لیے رضامند ہوگئی ہے۔

منصوبے میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں تمام حریفوں کی جانب سے جنگ بندی، فوجیوں اور بھاری ہتھیاروں کی شہروں سے واپسی اور امدادی اشیاء کی فراہمی شامل ہیں۔

کوفی عنان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو ایک بند کمرہ اجلاس میں تازہ حالات سے آگاہ کر رہے تھے۔

دوسری جانب شام میں فسادات کا سلسلہ جاری رہا اور کارکنوں نے حمص اور ادلیب سے لڑائی کی اطلاعات دی ہیں۔

کوفی عنان نے سلامتی کونسل سے آئندہ منگل تک شامی حکومت کی جانب سے جنگ بندی کے اقدام کی حمایت مانگی ہے۔

گزشتہ ہفتے شامی حکومت نے کوفی عنان کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبہ منظور کر لیا تھا تاہم سفارتکاروں کا کہنا تھا کہ کوفی عنان نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ابھی تک اس بات کے کوئی اثار نظر نہیں آ رہے کہ صدر الاسد کی حکومت اپنے وعدے وفا کرے گی۔

اجلاس کے بعد اقوام متحدہ میں امریکی سفیر سوزن رائس نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی وعدے ہوتے اور ٹوٹتے دیکھے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کا تجربہ تو ہمیں اس بات پر شک میں ڈالتا ہے کہ شام کی حکومت کوفی عنان کے امن منصوبے پر عملدرآمد کرئے گی اور ممکن ہے کہ فسادات بڑھ جائیں۔

اتوار کے روز تریسٹھ ممالک کے ایک گروپ نے شام کے صدر بشر الاسد کو خبردار کیا تھا کہ ان کے پاس کوفی عنان منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تھوڑا وقت باقی ہے۔

’فرینڈز آف سیریئا‘ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ حکومت کے پاس کوفی عنان منصوبے پر عمل کے لیے ایک قلیل موقع ہے۔

انہوں نے خصوصی ایلچی کوفی عنان سے بھی کہا کہ وہ آنے والے اقدامات کے لیے مناسب مدت کا تعین کریں۔

استنبول میں ہونے والے اس اجلاس میں شریک عرب ممالک نے ’فری سریئن آرمی‘ کی مالی امداد اور تنخواہیں دینے کا بھی اعلان کیا تھا۔

سریئن نیسنل کونسل کے ذریعے تقسیم ہونے والے یہ پیسے فری سریئن آرمی کے لیے بین القوامی سطح سے پہلی امداد ہوں گے۔

حکومت مخالف کارکنوں کی ایل تنظیم ’لوکل کورڈینیشن کمیٹیز‘ کے مطابق پیر کے روز شام میں پینسٹھ افراد ہلاک ہوئے جن میں سے چالیس حمص، چودہ ادلیب، چھ حماء اور پانچ حلب میں تھے۔

اسی بارے میں