افغانستان شدت پسندوں کا نیا حربہ

افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں شدت پسندوں نے پولیس اہلکاروں کے کھانے میں زہر ملا دی جس سے کم از کم چار پولیس اور دو سویلین اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس اہلکاروں کے کھانے میں زہر ملانے کا واقعہ افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے علاقے نہر سراج میں پیش آیا ہے۔

کابل سے بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری نے بتایا ہے کہ افغانستان کی سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو زہر سے ہلاک کرنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے واقعات ہو چکے ہیں۔

زہر ملانے کا واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں اور شدت پسند عناصر افغان سکیورٹی فورسز کی صفوں میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

افغان خفیہ ادارے کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں کے کھانے میں زہر ملانے کے واقعے کے بعد تین پولیس اہلکار اسلحہ سمیت لاپتہ ہیں۔

صوبے ہلمند کے پولیس سربراہ احمد نبی الہام نے کہا ہے کہ شدت پسندوں نے پہلے پولیس اہلکاروں کے دہی میں زہر ملایا اور اس کے بعد سکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کردیا۔

ہلمند کے گورنر کے ترجمان نے کہا ہے کہ واقعہ کی تہہ تک پہنچنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔