ہیلتھ کیئر بل: اوباما کی عدالت کو تنبیہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یقین ہے کہ جج اس بل کو تسلیم کریں گے اور ہیلتھ کیئر قانون برقرار رہے گا

امریکی صدر براک اوباما نے متنبہ کیا ہے کہ اگر امریکی سپریم کورٹ ان کے ہیلتھ کیئر منصوبے کو غیر آئینی قرار دے کر رد کرتی ہے تو یہ جوڈیشل ایکٹوازم کے مترادف ہوگا۔

پیر کو وائٹ ہاؤس میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے براک اوباما کا کہنا تھا کہ غیر منتخب جج صاحبان کو جمہوری طور پر منتخب کانگریس میں واضح اکثریت سے منظور کیے گئے قانون کو مسترد نہیں کرنا چاہیے۔

امریکی سپریم کورٹ کے نو جج فی الوقت اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اس قانون کے کچھ حصے امریکی آئین سے متصادم ہیں یا نہیں۔

وہ اس بارے میں رواں برس جون میں فیصلہ سنائیں گے۔تاہم گزشتہ ہفتے دلائل کے دوران متعدد جج صاحبان نے صحتِ عامہ کے منصوبے کے قانون پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے سٹیو کنگسٹن کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ بل کے مسترد کیے جانے کے امکانات سامنے آنے کے بعد صدر اوباما نے اس معاملے پر تبصرہ کیا ہے۔

ہیلتھ کیئر قانون کا دفاع کرتے ہوئے براک اوباما نے کہا کہ وہ اس قانون سے مزید تین کروڑ افراد بھی فائدہ اٹھا پائیں گے جن کے پاس پہلے ہیلتھ کیئر کی سہولت موجود نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کسی امریکی صدر کا آنے والے عدالتی فیصلے کے بارے میں اتنا واضح بیان دینا عام بات نہیں ہے

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ جج اس بل کو تسلیم کریں گے اور ہیلتھ کیئر قانون برقرار رہے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جج صاحبان کی جانب سے جمہوری طور پر منتخب کانگریس کے منظور شدہ قانون کو مسترد کرنا جوڈیشل ایکٹوازم ہوگا۔

نامہ نگار کے مطابق کسی امریکی صدر کا آنے والے عدالتی فیصلے کے بارے میں اتنا واضح بیان دینا عام بات نہیں ہے اور صرف یہی یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ اوباما حکومت کے لیے یہ بل کتنا اہم ہے۔

صدر اوباما کے ہیلتھ کیئر بل کو امریکہ میں اس نظام میں گزشتہ پچاس برس میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے جبکہ کنزرویٹوز نے اس بل کو شہری آزادی پر حملہ قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں