ترکی: سابق فوجی آمر کےخلاف مقدمے کی کارروائی شروع

تصویر کے کاپی رائٹ 1
Image caption میرے خیال مقدمہ چلایا گیا تو خود کشی کر لوں گا: سابق فوجی حکمران

ترکی میں اسی کی دہائی میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے والے جنرل کنعان ایورن اور ان کے ساتھی جنرل تاسن شہنکایا کے خلاف جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے جرم میں مقدمے کی کارروائی شروع ہو گئی ہے۔

جنرل کنعان ایورن نے انیس سو تراسی میں منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور چھ برس تک اقتدار پر قابض رہے۔ جنرل کنعان ایورن کی عمر چورانے سال برس ہے جبکہ ان کے ساتھی جنرل تاسن شہنکایا کی عمر چوراسی برس ہے۔

ترکی میں دو ہزار دس میں ہونے والے ریفرنڈم کے نتیجے میں آئین میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت فوجی جرنیلوں کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ ختم کر دیاگیا ہے۔

بدھ کی انقرہ کی عدالت میں جب مقدمے کی کارروائی شروع ہوئی تو دونوں جنرل ’خرابی صحت‘ کی وجہ عدالت میں موجود نہیں تھے۔استغاثہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دونوں جرنیل ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا موقف بیان کر سکتے ہیں۔

فوجی جرنیلوں کے خلاف مقدمے کی کارروائی کے موقع پر سینکڑوں افراد عدالت کے باہر موجود تھے اور ملک میں جمہوریت کا گلہ گھوٹنے والے جرنیلوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہےتھے۔ مظاہرین نے فوج کے تشدد سے ہلاک ہونے والے سیاسی کارکنوں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔

استغاثہ نے عدالت سےدونوں جرنیلوں کو عمر قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترکی میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن ہیڈ کا کہنا ہے کہ دونوں جرنیل اپنی عمر رسیدگی کی وجہ جیل جانے سے بچ جائیں گے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق فوجی جرنیلوں کے خلاف مقدمے کی علامتی حیثیت بہت زیادہ ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ دو عشرے پہلے تک ناقابل گرفت فوجی اسٹیبلشمنٹ اب اپنی طاقت کھو رہی ہے۔

ترکی کی پارلیمنٹ اور حکمران جماعت اے کے پی نے فوجی جرنیلوں کے خلاف مقدمے میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے۔ پارلیمنٹ اور حکمران سیاسی جماعت نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ ان کے اعتراضات سنے۔

جنرل کنعان ایورن نے دو ہزار دس میں کہا تھا کہ اگر ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کی گئی تو وہ خود کشی کر لیں گے۔ اپنے عمل کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ فوج نے مداخلت کرکے ملک کو خانہ جنگی کے خطرے سے بچایا تھا۔

اسی بارے میں