شام: تشدد میں اضافہ، ہزاروں کی نقل مکانی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اطلات کے مطابق ایک ہزار شامی شہری سرحد عبور کر کے ترکی پہنچے ہیں۔

ترک حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران شام میں جاری تشدد میں ڈرامائی اضافے کے بعد شامی شہریوں کی بڑی تعداد بھاگ کر ترکی آ رہی ہے۔

سرحدی شہر ریحانلی سے ملنے والی اطلات کے مطابق ایک ہزار شامی شہری سرحد عبور کر کے ترکی پہنچے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں شام چھوڑ کر جانے والوں میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔

کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ تعداد اس لیے بڑھی ہے کہ شامی فوج گاؤں گاؤں گھوم کر بمباری کر رہی ہے اور لوگوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کر رہی ہے۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ فوجوں کو ہٹانے کے لیے آئندہ ہفتے ختم ہونے والی مہلت ختم ہونے سے قبل شامی فوج اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اب تک بیس ہزار کے لگ بھگ شامی شہری ملک چھوڑ کر ترکی جا چکے ہیں۔

ادھر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مندوب کوفی عنان کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ سابق سیکرٹری جنرل اپنے امن منصوبے کو مستحکم بنانے کے لیے آئندہ ہفتے شام کے بڑے اتحادی ایران کا دورہ کرنے والے ہیں۔

دریں اثنا اقوام متحدہ کی ایک ٹیم دمشق میں حکومت کے نمائندوں سے امن مبصرین کی تعیناتی کے بارے میں مذاکرات کر رہی ہے۔ یہ مبصرین اس امن منصوبے کا حصہ ہوں گے جو کوفی عنان نے تجویز کیا ہے۔

تاہم اس امن منصوبے میں اس وقت تک کوئی پیش رفت ممکن نہیں جب تک سکیورٹی فورسز اور صدر بشار الاسد کے مخالفین کی پُر تشدد کارروائیوں کو روکنے کے اقدام نہیں کیے جاتے۔

صدر بشار آئندہ ہفتے سے بھاری ہتھیار استعمال نہ کرنے اور فوجوں کو شہروں اور دیہاتوں سے ہٹانے پر اتفاق کر چکے ہیں۔

امن منصوبے کے مطابق اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ڈھائی سو مبصرین شام میں متعین کیے جائیں گے۔

امن منصوبے کی ابتدا سے قبل دونوں جانب کو آئندہ منگل تک کی مہلت دی گئی ہے لیکن اب تک دو طرفہ تشدد کے ختم ہونے کے اقدام ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔

اسی بارے میں