پاگل نہیں جہادی ہوں: انرش بریوک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کثیر الثقافتی معاشرے اور اسلام کے خلاف جہاد کر رہا ہوں: انرش بریوک

ناروے کے دائیں بازو کے شدت پسند انرش بہرنگ بریوک نے اپنے بارے میں ماہر نفسیات کی اس رپورٹ کو لغو قرار دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ انہیں پاگل پن کے دورے پڑتے ہیں۔

انرش بہرنگ بریوک نے ناروے کے اخبار میں چھپنے والے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے بارے میں نفسیاتی رپورٹ کا اسی فیصد حصہ جھوٹ پر مبنی ہے۔

انرش بہرنگ نے گزشتہ سال جولائی میں تن تہنا ستتر افراد کو ہلاک اور ایک سو اکاون کو زخمی کر دیا تھا۔

فعل وحشیانہ مگر ضروری تھا

انرش بریوک کون؟

انرش بریوک کے خلاف مقدمے کی کارروائی سولہ اپریل سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ انرش بریوک کے وکیلوں کا کہنا ہے کہ ان کے موکل چاہتے ہیں کہ ان کا مقدمہ ایک ہوش و حواس میں شخص کا مقدمہ ہو۔

انرش بریوک نے کہا نفسیاتی وارڈ میں رہنا موت سے بدتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی کارکن کو نفسیاتی وراڈ میں رکھنا اسے مار ڈالنے سے زیادہ برا فعل ہے۔

انرش بریوک نے ستتر افراد کے قتل اور ایک سو اکاون کو زخمی کرنا تسلیم کیا ہے۔ انرش بریوک کا کہنا ہے کہ وہ کثیر الثقافتی معاشرے اور اسلام کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔

بتیس سالہ ملزم انرش بیرنگ پر ناروے میں دہشتگردی پھیلانے کا الزام ہے اور ناروے کے موجودہ قانون کے تحت انہیں زیادہ سے زیادہ اکیس سال کی قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں