زہریلی سوئی سے قتل کی کوشش پر چار سال قید

پارک سینگ ہاک تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پارک سینگ ہاک کو انٹیلیجنس حکام نے این سے ملاقات سے منع کر دیا تھا۔

شمالی کوریا کے ایک باغی کو جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے ایک اعلٰی شخصیت کو قتل کرنے کی کوشش کے الزام میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

این نامی اس شخص نے پارک سینگ ہاک نامی شمالی کوریا کے مخالف کارکن کو زہریلی سوئی سے قتل کیا تھا۔ پارک سینگ ہاک شمالی کوریا کے خلاف پروپیگینڈے پر مبنی پرچے تقسیم کرنے میں ملوث تھے۔

جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ این نے شمالی کوریا کے حکم پر اس قتل کا منصوبہ بنایا۔

این جنوبی کوریا کی فوج کے سابق کمانڈو تھے جو نوے کی دہائی کے آخر میں باغی ہو گئے تھے۔ انہیں سمتبر دو ہزار گیارہ میں گرفتار کیا گیا۔

پارک سینگ ہاک جنہیں این نے قتل کرنے کی کوشش کی ایسے غبارے سرحد پار روانہ کرتے تھے جن کے ساتھ شمالی کوریا کے رہنماؤں کے خلاف تنقیدی پرچے منسلک ہوتے۔

گذشتہ برس انہوں نے صحافیوں کو بتایا کے این نے انہیں تین ستمبر کو ملنے کے لیے کہا تاہم انٹیلیجنس حکام نے انہیں اس ملاقات سے متعلق متنبہ کر دیا۔

سیول کی ضلعی عدالت کا کہنا تھا کہ یہ سزا ملک کی سلامتی اور تحفظ کو خطرے میں ڈالنے والے جرائم کے لیے مقرر سزاؤں کے تحت دی گئی ہے۔

جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے یان ہاپ نے مطابق این نے یہ جرم کرنے کی حامی اس لیے بھری کیونکہ وہ جنوبی کوریا کی قومی انٹیلیجنس سروس کو ناپسند کرتے تھے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں این کو دس ہزار تین سو ننانوے ڈالر جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ جرمانہ شمالی کوریا کی جانب سے انہیں دی گئی رقم کے برابر ہے۔

شمالی کوریا اس سے قبل بھی جنوبی کوریا میں کئی لوگوں کو قتل کروانے کے لیے ایجنٹس کا استعمال کر چکا ہے۔

اسی بارے میں