مصر :صدراتی امیدوار میدان میں اتر آئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

صدر حسنی مبارک کے دور میں ایک لمبے عرصے تک نائب صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے، عمر سلمان نے صدارتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اپنا فیصلہ بدل دیا ہے۔

عمر سلمان نے کہا کہ وہ ’عوام کی خواہش‘ پر مئی میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لیں گے۔

عمر سلمان بشیر نے عوامی احتجاج کی وجہ سے صدر حسنی مبارک کی اقتدار سے علیحدگی کے بعد صدر کا عہدہ سنھبال لیا تھا۔

عمر سلمان نے کچھ ماہ پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ صدارتی انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے۔ گزشتہ روز عمر سلمان کے ہزاروں حمایتیوں نے قاہرہ میں اکھٹے ہو کر عمر سلمان سے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا مطالبہ کیا جس پر وہ راضی ہو گئے اور اپنا فیصلہ بدل دیا۔

سابق صدر عمر سلمان کے علاوہ ، عرب لیگ کے سابق سیکرٹری جنرل امر موسیٰ بھی انتخابات میں حصہ لینے کا ارادہ ظاہر کر چکے ہیں۔

پارلیمانی انتخابات میں کامیاب ہونے والی اسلامی جماعتوں نے اپنے اپنے صدارتی امیدواروں کا اعلان کر دیا ہے۔

اخوان المسلمین نے خیرات الشاطر کو اپنا صدارتی امیدوار مقرر کیا تھا۔ مصری پارلیمنٹ میں اخوان المسلمین کو اکثریت حاصل ہے۔ اخوان المسلمون کے علاوہ سلفی رہنما حازم ابو اسماعیل نے بھی صدارتی امیدوار بننے کی اشارہ دیا ہے۔ اخوان المسلمین نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ صدارتی انتخابات میں اپنا امیدوار کھڑا نہیں کرے گے ۔

جمعہ کے روز حازم ابو اسماعیل کے ہزاروں حامیوں میں تحریر سکوائر پر ایک مظاہرہ کیا۔ مبصرین کے خیال میں حازم ابو اسماعیل چونکہ ایک امریکی شہری کی اولاد ہیں اس لیے ان کو انتخابات میں نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔