موت کا سوداگر، امریکی سزا سیاسی ہے: روس

viktor bout تصویر کے کاپی رائٹ AP

روس نے کہا کہ موت کا سوداگر کے نام دیے جانے والے روسی وکٹر بوٹ کو امریکہ کی عدالت سے سیاسی ہے اور اسے دوطرفہ تعلقات میں ترجیح حاصل رہے گی۔

وکٹر بوٹ کو امریکہ کی ایک عدالت نے پچیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

آخری سماعت کے دوران جب استغاثہ نے الزام عائد کیا کہ وکٹر بوٹ نے امریکیوں کو مارنے کے لیے ہتھیار فروخت کیے تو وکٹر نے چیخ کر کہا، ’یہ جھوٹ ہے‘۔

سابق سوویت اہلکار، پینتالیس سالہ وکٹر بوٹ کو گزشتہ سال نومبر میں كولبمیا کے باغی گروپ کو بڑے ہتھیار فروخت کرنے کی کوششوں کا قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔

روسی وزارت نے اس سلسلے میں کہا ہے کہ کمزور شہادتوں، امریکی جاسوسوں کے ذریعے غیر قانونی نوعیت کی گرفتاری اور روسی شہری کو بچانے کےلیے ہر سطح پر کی جانے والی اپیلوں اور وکیل کے دلائل کو نظر انداز کر کے امریکی عدالت نے وہ کیا ہے جو واضح طور پر سیاسی مقصد تھا۔

ماسکو سے بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیل سینڈفورڈ کا کہنا ہے کہ وزارت نے کہا کہ اس کی اولین کوشش یہ ہو گی کہ بوٹ کو واپس وطن لانے کے لیے ہو ممکن اقدام کیا جائے

وکٹر بوٹ کو 2008 میں بنکاک میں گرفتار کیا گیا تھا جب ایک سٹنگ آپریشن میں کچھ امریکی كولبميائي باغی بن کر ان سے ملے تھے۔

ماسکو کوشش کر سکتا ہے کہ وکٹر بوٹ کو سزا کاٹنے کے لیے روس منتقل کر دیا جائے۔ بوٹ کے وکیل نے کہا ہے کہ سزا کے خلاف اپیل کی جائے گی۔

وکٹر بوٹ کی زندگی کی کہانی پر ہالی وڈ میں دو ہزار پانچ میں ایک فلم بن چکی ہے۔’لارڈ آف وار‘ نام کی اس فلم میں وکٹر بوٹ کا کردار نکولس كیج نے ادا کیا تھا۔

گرفتار کئے جانے کے بعد وکٹر بوٹ کو دو سال تک تھائی لینڈ میں ہی قید میں رکھا گیا اور اس کے بعد انہیں امریکہ منتقل کر دیا گیا، جہاں ان پر مقدمہ چلا۔

وکٹر بوٹ سبزی خور ہیں اور چھ زبانیں بولنا جانتے ہیں۔

سزا کا فیصلہ آنے کے بعد انہوں نے اپنے وکیل کو گلے لگایا اور عدالت سے جاتے ہوئے اپنی بیوی کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔

اس سے پہلے انہوں نے ایک روسی مترجم کے ذریعے جج سے کہا کہ ان کا ’مقصد کسی کو مارنا کبھی نہیں رہا اور اس سچ کو خدا جانتا ہے۔‘

گو کہ انہیں نومبر میں ہی مجرم قرار دے دیا گیا تھا لیکن سزا سنایا جانا دو بار ملتوی کیا گیا کیونکہ ان کے وکیل نے امریکی حکومت پر ایک روسی شہری کو پھسانے کے لیے ’نفرت کے رویے‘ کا الزام لگاتے ہوئے مزید وقت طلب کیا تھا۔

جسٹس ورید شیڈلين نے کہا کہ امریکی حکام نے جو سٹنگ آپریشن کیا تھا، اس کے بنیاد پر وکٹر بوٹ کو پچیس سال کی سزا دینا مناسب ہے۔ بوٹ کو اس کے علاوہ ڈیڑھ کروڑ ڈالر جرمانہ ادا کرنے کو بھی کہا گیا ہے۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ بنکاک کے ایک ہوٹل میں كولمبين باغی بن کر جانے والے امریکی حکام سے وکٹر بوٹ نے زمین سے ہوا میں مار کرنے والے سو جدید ترین میزائل اور پانچ ہزار اے کے -47 رائفل فروخت کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

وکٹر بوٹ کو یہ سزا تھائی لینڈ میں ہتھیاروں فروخت کرنے کی ان کوششوں کے لیے ہی سنائی گئی ہے لیکن امریکی حکام کا الزام ہے کہ بوٹ نے افریقہ، جنوبی امریکہ اور مشرق وسطی میں آمر حکمرانوں اور باغیوں کو بھی ہتھیار فروخت کیے۔

کہا جاتا ہے کہ بوٹ نے 1990 کی دہائی میں افریقہ میں ہتھیاروں کی فراہمی شروع کی تھی۔

امریکی وزارت خزانہ نے سال 2004 میں وکٹر بوٹ کے ساتھ کسی بھی طرح کے کاروبار پر پابندی لگا دی تھی کیونکہ ان پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے طالبان کو بھی ہتھیار فراہم کیے ہیں۔

اسی بارے میں