شامی پناہ گزین، مدد درکار ہو سکتی ہے:ترکی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جوں جوں فائر بندی کی مہلت ختم ہونے کے قریب پہنچ رہی ہے حکومتی فوجیوں اور باغیوں میں جاری جنگ تیز ہوتی جا رہی ہے۔

ترکی نے اقوام متحدہ کو متنبہ کیا ہے کہ اگر شام سے آنے والے پناہ گزینوں کی رفتار یہی رہی تو اُسے مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے ملاقات کے بعد ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے کہا کہ پاناہ گزینوں کی آمد ایک عالمی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کے گذشتہ چھتیس گھنٹوں کے دوران دو ہزار آٹھ سو شامی سرحد عبور کر کے ترکی میں داخل ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں شامی پناہ گزینوں کی کل تعداد چوبیس ہزار تک جا پہنچی ہے۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے امن منصوبے کے تحت فائر بندی شروع ہونے کی مہلت میں چھ دن باقی رہ گئے ہیں اور جوں جوں مہلت ختم ہونے کے قریب پہنچ رہی ہے حکومتی فوجیوں اور باغیوں میں جاری جنگ تیز ہوتی جا رہی ہے۔

اقوام متحدہ کا اندازہ ہے کہ صدر بشار الاسد کے خلاف جاری بغاوت کے نتیجے میں ہونے والی جھڑپوں میں اب تک نو ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

احمد داؤد اوولو نے بتایا ہے کہ انہوں نے شامی پناہ گزینوں کی آمد پر تشویش کا اظہار کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے ملاقات کی ہے۔

بعد میں ایک ٹیلی وژن سے نشر ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’ہم نے شام میں تشدد کے باعث ملک چھوڑنے والے پناہ گزینوں کی مدد میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی لیکن اگر ان کی آمد کی رفتار یہی رہی تو پھر ہمیں اقوام متحدہ اور عالمی برجدری کی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ہے‘۔

داؤد اوولو نے کہا کہ جب سے بشار الاسد نے کوفی عنان کے منصوبے پر عمل درآمد پر آمادگی ظاہر کی پناہ گزینوں کی آمد کی رفتار دوگنی ہو گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ بشار الاسد کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں وہ بھی جانتے ہیں کہ پناہ گزینوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ان کے مسئلے کو عالمی مسئلہ بنا سکتی ہے۔

اسی بارے میں