یمن: سابق صدر کے حامیوں نے ایئرپورٹ بند کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سابق صدر عبداللہ صالح کے سوتیلے بھائی اور ایئرفورس کے سربراہ نے اپنے عہدے سے علیحدہ ہونےسے انکار کر دیا ہے

سابق صدر عبد اللہ صالح کے حامی کمانڈر کی برطرفی کے خلاف ایئر فورس کے اہلکاروں نے دارالحکومت صنعا کے ایئرپورٹ کو بند کر دیا ہے۔ صنعا کے ایئرپورٹ جانے والی تمام پروازوں کو دوسرے شہروں کی طرف موڑا جا رہا ہے اور صنعا سے جانی والی فلائیٹوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔

یمن کے نئے صدر نے عبد الرب منصور ہادی اعلیٰ فوجی عہدوں پر فائز سابق صدر عبد اللہ صالح کے رشتہ دراوں کو ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ نئے صدر نےگزشتہ روز ایئر فورس کے سربراہ محمد صالح الحمر اور صدراتی محافظوں کے دستے کے سربراہ کو برطرف کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سابق صدر عبد اللہ صالح کے سوتیلے بھائی محمد صالح الحمر نے ایئر فورس کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے سے انکار کر دیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر انہیں عہدے سے ہٹانے کا حکم واپس نہ لیاگیا تو وہ ایئرپورٹ سے اڑنے والے ہر جہاز کو مار گرائیں گے۔

سابق صدر عبداللہ صالح نے تینتیس سال تک اقتدار پر قابض رہے اور تمام اعلی عہدوں پر اپنے رشتہ داروں کو تعینات کیا۔

عبد اللہ ملک میں جاری احتجاج کے بعد اپنے عہدے سے علیحدہ ہونے پر تیار ہوگئے تھے۔ جمعہ کو یمن میں ہزاروں افراد فوج میں اصلاحات کے حق میں مظاہرہ کیا تھا۔