مصر: صدرات کے لیے تئیس کے کاغذات جمع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption الیکشن میں مقابلہ اسلام پسندوں اور سابقہ حکومت کے حکام میں ہوگا

مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے طویل دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد ہونے والے پہلے صدارتی انتخاب کے لیے کاغذات جمع کروانے کی مہلت ختم ہوگئی ہے۔

مئی اور جون میں ہونے والے انتخابات کے لیے تئیس امیدواروں نے رجسٹریشن کروائی ہے جن میں حسنی مبارک کے دورِ اقتدار میں ملک کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ رہنے والے عمر سلیمان بھی شامل ہیں۔

اخوان المسلمون نے جہاں عمر سلیمان کی صدارتی انتخاب میں شرکت کی شدید مذمت کی ہے وہیں اپنے پہلے امیدوار کی اہلیت پر سوال اٹھائے جانے کے بع متبادل امیدوار کے کاغذات بھی جمع کروا دیے ہیں۔

اخوان المسلمون کے خیرات الشاطر کا کہنا ہے کہ عمر سلیمان کو ملکی سربراہ کی حیثیت سے نامزد کرنا مصر کے عوام کی توہین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمر سلیمان صرف جعلسازی کر کے جیت سکتے ہیں اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو مصر میں دوبارہ انقلاب آئے گا۔

مصر میں انتخابی حکام پیر کو امیدواروں کی غیر حتمی فہرست جاری کریں گے اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ الیکشن میں مقابلہ اسلام پسندوں اور سابقہ حکومت کے حکام میں ہوگا۔

اخوان المسلمون نے جس متبادل امیدور کے کاغذ جمع کروائے ان کا نام محمد مرسی ہے اور وہ اخوان کی فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے سربراہ ہیں۔

اخوان المسلمون کو متبادل امیدوار ان اطلاعات کے سامنے آنے کے بعد تلاش کرنا پڑا ہے کہ خیرات الشاطر کو چونکہ حال ہی میں ایک سزا سے معافی دی گئی ہے اس لیے وہ انتخاب لڑنے کے اہل نہیں۔

خیرات الشاطر کے علاوہ بھی کئی ایسے امیدوار ہیں جن پر اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ ان امیدواروں میں لبرل امیدوار ایمن نور اور اسلامی مبلغ ہزم ابو اسماعیل بھی شامل ہیں۔

ابو اسماعیل کے کاغذاتِ نامزدگی مسترد ہونے کے بھی واضح امکانات ہیں اور اس کی وجہ ان کی والدہ کا امریکی پاسپورٹ ہے۔

اسی بارے میں