ایران: لندن اولمپکس کی ویب سائٹ بند

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایران میں ویب سائٹوں پر پابندی لگانے کا عمل کسی ایک ادارے کے پاس نہیں ہے۔

ایران نے بظاہر لندن میں ہونے والی دو ہزار بارہ کے اولمپک مقابلوں کی ویب سائٹ کو بلاک کر دیا ہے۔

ایران میں انٹرنیٹ صارفین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغامات میں بتایا ہے کہ وہ اولمپک مقابلوں کی ویب سائٹ پر نہیں جا پا رہے اور انہیں ایک ایسی ویب سائٹ پر بھیجا جا رہا ہے جس پر ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں کی خبریں فراہم کی جاتی ہیں۔

اگرچہ ’بلاکڈ اِن ایران ڈاٹ کام‘ نامی ویب سائٹ، جو ایران میں ممنوع ویب سائٹوں کی فہرست رکھتی ہے، نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے لیکن ایران کی وزارِت خارجہ نے اس پر تبصرے کی درخواست کا ابھی تک جواب نہیں دیا۔

بی بی سی کے پروگرام ’کلک‘ کے فارسی ورژن کے میزبان نیما اکبرپور کا کہنا تھا کہ اس طرح کی پابندیاں عام ہیں مگر یہ جاننا مشکل ہے کہ ان کا ذمہ دار کون ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران میں ویب سائٹوں پر پابندی لگانے کا عمل کسی ایک ادارے کے پاس نہیں ہے۔

ایران کے روحانی پیشوا آیت للہ خامنہ ای نے حال ہی میں انٹرنیٹ سے متعلق فیصلوں کے لیے ایک نئے ادارے کے قیام کا حکم دیا تھا۔

شہریوں کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ انہیں انٹرنیٹ کیفے میں جاتے ہوئے شناختی کارڈ دکھانا ہوگا اور اپنا پورا نام بھی بتانا ہوگا۔

واضح رہے کہ ایرانی صدر محمود احمد نژاد ایران کے اندر انٹرنیٹ کو صاف شفاف بنانے پر غور کر رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے پہلے بھی یہ اشارہ آیا تھا کہ وہ اولمپک مقابلوں کا بائیکاٹ کرے گا۔ اس کی وجہ ان اولمپک مقابلوں کے نشان کا لفظ ’زائون‘ سے مشابہت دی گئی تھی جو عبرانی زبان میں اسرائیل کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

فروری دو ہزار گیارہ میں ایرانی حکام نے اولمپک نشان کی تبدیلی کی درخواست کی تھی تاہم یہ مسترد کر دی گئی تھی۔ بعد میں ایک خط میں یہ واضح کیا گیا کہ ایران کے کھلاڑی حصہ لیں گے۔

اسی بارے میں