تشدد کے باوجود امن منصوبہ موجود ہے: عنان

کوفی عنان تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کوفی عنان نے دمشق اور مخالف گروہوں سے تشدد بند کرنے کی اپیل کی ہے

اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل اور شام پر اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے ایلچی کوفی عنان نے کہا کہ کئی شہروں میں تازہ تشدد اور جھڑپوں کے باوجود امن منصوبہ اپنی جگہ موجود ہے۔

انہوں نے دمشق اور مخالف گروہوں سے تشدد بند کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ فائر بندی شروع ہوتے ہی فوجی آبادیوں سے دور ہو جائیں گے۔

منگل سے شروع ہونے والے امن منصوبے کے مطابق فائر بندی کے ساتھ ہی فوج ان تمام علاقوں سے مکمل طور پر نکل جائے گی جہاں اس وقت تصادم ہو رہا ہے۔

اس سے قبل ملنے والی اطلاعات بتایا گیا تھا کہ شامی کارکنوں نے حمص شہر اور شام کے شمالی صوبے حلب میں گولہ باری کے واقعات کی اطلاعات دی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دارالحکومت دمشق میں بھی بدامنی جاری ہے۔

دوسری جانب روس کے دورے پر گئے ہوئے شامی وزیرِ خارجہ ولید معلم نے کہا ہے کہ حکومت نے ڈیڈ لائن پر عمل درآمد کرتے ہوئے اقدامات کیے ہیں اور کئی علاقوں سے فوج کو واپس بلا لیا ہے۔

تاہم انہوں نے تشدد کے جاری واقعات کا ذمہ دار مسلح گروہوں کو ٹھہرایا ہے۔

واضح رہے کہ کوفی عنان امن منصوبے کے تحت فائر بندی کی مہلت منگل کو ختم ہو رہی ہے لیکن امریکہ نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا کہ شام جاری تشدد اور لڑائی کے خاتمے کے لیے عالمی منصوبے کی پاسداری کرے گا۔

شام نے ابتدائی طور پر دس اپریل سے ملک کے قصبوں، دیہات اور شہروں میں موجود ٹینک اور دیگر بھاری ہتھیار ہٹانے اور اس کے اڑتالیس گھنٹے کے اندر ہر قسم کی کارروائی روکنے اور جنگ بندی کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

تاہم بعدازاں شام نے جنگ بندی کے لیے دی گئی حتمی تاریخ سے دو دن قبل حزبِ مخالف سے تحریری ضمانتوں اور بیرونی حکومتوں سے حزب مخالف کو مالی امداد نہ دینے یا انہیں مسلح نہ کرنے کے وعدوں کا مطالبہ کیا تھا۔ ان مطالبات کے بعد اس امن منصوبے پر کامیابی سے عمل درامد خطرے میں پڑ گیا تھا۔

پیر کو ڈیڈ لائن کے خاتمے سے چند گھنٹے قبل وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے صدر اسد کی حکومت کی جانب سے وعدہ پورا کرنے کی کوئی علامات نہیں دیکھی ہیں جو کہ یقینی طور پر مایوس کن ہے‘۔

امریکہ نے شامی فوج کی جانب سے ترک علاقے میں فائرنگ کی بھی مذمت کی ہے۔ پیر کو محکمۂ خارجہ کی ترجمان وکٹوریہ نولینڈ نے کہا کہ ’ہم ترک حکومت کی جانب سے شامی حکومت سے فوری جنگ بندی کے مطالبے کے حامی ہیں۔

ادھر شام میں حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ پیر کو حکومتی افواج نے مختلف مقامات پر کارروائیوں کے دوران کم از کم ایک سو افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف مظاہروں کے آغاز کے بعد سے اب تک یہ ایک دن میں ہلاکتوں کے بڑے واقعات میں سے ایک ہے اور یہ ہلاکتیں ایک ایسے موقع پر ہوئی ہیں جب عالمی امن منصوبے کے تحت شام کے شہروں اور قصبوں سے فوج کے انخلاء کی ڈیڈ لائن پوری ہونے میں چند گھنٹے ہی باقی رہ گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شامی فوج نے ملک کے مختلف علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں اضافہ کر دیا

پیر کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق شامی فوج نے حملوں میں جنگی ہیلی کاپٹرز کا بھی استعمال کیا اور ملک کے وسطی صوبے حما میں بمباری سے تیس شہری ہلاک ہوئے۔ حما کے قصبے ال لتمانا میں سترہ خواتین اور آٹھ بچے بمباری کے نتیجے میں منہدم ہونے والے گھروں کے ملبے تلے دب کر مارے گئے۔

شامی فوج نے پیر کو ہی ترکی اور لبنان کی سرحد پر بھی فائرنگ کی ہے جس میں ایک کیمرہ مین سمیت تین افراد ہلاک اور اکیس ہی زخمی ہوئے ہیں۔

ترک شام سرحد پر فائرنگ کے واقعات اس وقت پیش آئے جب پہلے شامی فوج نے ترک علاقے میں داخل ہونے والے شامی باشندوں اور پھر سرحد پار قائم پناہ گزین کیمپ کو نشانہ بنایا۔

پہلے حملے میں کم از کم دو افراد ہلاک اور اٹھارہ زخمی ہوئے۔ اس حملے کے بعد شامی فوج اور باغیوں کے درمیان فائرنگ کے دوران چند گولیاں ترک پناہ گزین کیمپ میں موجود دو شامی پناہ گزینوں اور ایک ترک مترجم کے لگیں جس سے وہ زخمی ہوگئے۔

ترکی نے اس واقعے کے بعد شام کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا ہے۔ ترکی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان حملوں سے ظاہر ہے کہ منگل تک شامی فوج کا شہری علاقوں سے انخلاء ممکن نہیں ہے۔

اس کے علاوہ شام اور لبنان کی سرحد پر شامی فوجیوں نے لبنانی علاقے میں موجود ایک ٹی وی عملے پر فائرنگ کی جس سے ایک کیمرہ مین ہلاک ہوگیا۔

اسی بارے میں