’انرش بریوک کی ذہنی حالت ٹھیک ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption انرش بہرنگ بریوک کے مقدمے کی سماعت آئندہ پیر سے شروع ہو گی

ناروے میں دائیں بازو کے شدت پسند انرش بہرنگ بریوک کے دوسرے نفسیاتی جائزے کے بعد یہ سامنے آیا ہے کہ ان کی ذہنی حالت مقدمے کا سامنا اور قید کی سزا کاٹنے کے لیے ٹھیک ہے۔

نومبر میں شائع ہونے والے پہلے جائزے کی رپورٹ میں انہیں قانونی طور پر پاگل قرار دے دیا گیا تھا تاہم اس نئے نفسیاتی جائزے کے نتائج گزشتہ نتائج کے برعکس ہیں۔

واضح رہے کہ انرش بہرنگ بریوک نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال بائیس جولائی کو دو حملوں میں ستتر افراد کو ہلاک اور ایک سو اکاون کو زخمی کیا تھا۔ تاہم ان کے بقول انہوں نے کوئی ’دہشت گردی‘ نہیں کی اور انہوں نے جو کیا وہ اسلام اور کثیر الثقافت کے خلاف ایک صليبي جنگ کا حصہ ہے۔

ان کی ذہنی حالت سے یہ تعین کیا جا رہا ہے کہ انہیں نفسیاتی وارڈ بھیجا جائے یا قید کی سزا سنائی جائے۔

پہلے نفسیاتی جائزے کے بعد اس بات پر بہت تنقید کی گئی تھی کہ ایک پاگل انسان اتنے منظم حملے کیسے کر سکتا ہے؟ چنانچہ ایسے میں انرش بریوک نے خود بھی کہا تھا کہ ان کی دماغی حالت ٹھیک ٹھاک ہے اور ان کے بقول ’ایک سیاسی کارکن کو نفسیاتی وراڈ بھیجنا موت سے بھی بدتر ہے۔‘

انرش بہرنگ بریوک کے مقدمے کی سماعت آئندہ پیر سے شروع ہو گی۔

اسی بارے میں