’شام قیامِ امن کا اشارہ دینے میں ناکام‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 11 اپريل 2012 ,‭ 19:42 GMT 00:42 PST
کوفی عنان

ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امن منصوبہ ناکام ہوگیا ہے:کوفی عنان

شام کے لیے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ شامی حکومت ’امن کا طاقتور سیاسی اشارہ‘ دینے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ منگل تک شہری علاقوں سے انخلاء پر اتفاق کے باوجود شامی فوج نے شہری علاقوں میں آپریشن جاری رکھے ہیں۔

شام میں حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ منگل کو شامی فوج نے کئی قصبوں پر گولہ باری کی جس سے کم از کم ساٹھ افراد مارے گئے ہیں۔

تاہم تازہ تشدد اور جھڑپوں کے باوجود کوفی عنان نے یہ بھی کہا ہے کہ امن منصوبہ اب بھی برقرار ہے۔

سلامتی کونسل میں پیش کردہ رپورٹ میں کوفی عنان کا کہنا ہے کہ ’دس اپریل سے پہلے کے دن شامی حکومت کے لیے امن کے طاقتور سیاسی اشارے دینے کا وقت ہونا چاہیے تھا لیکن مجھے موجودہ حالات پر شدید تشویش ہے‘۔

واضح رہے کہ کوفی عنان امن منصوبے کے تحت فائر بندی کی مہلت منگل کو ختم ہو رہی ہے لیکن امریکہ نے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی امکان دکھائی نہیں دے رہا کہ شام جاری تشدد اور لڑائی کے خاتمے کے لیے عالمی منصوبے کی پاسداری کرے گا۔

شام نے ابتدائی طور پر دس اپریل سے ملک کے قصبوں، دیہات اور شہروں میں موجود ٹینک اور دیگر بھاری ہتھیار ہٹانے اور اس کے اڑتالیس گھنٹے کے اندر ہر قسم کی کارروائی روکنے اور جنگ بندی کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

تاہم بعدازاں شام نے جنگ بندی کے لیے دی گئی حتمی تاریخ سے دو دن قبل حزبِ مخالف سے تحریری ضمانتوں اور بیرونی حکومتوں سے حزب مخالف کو مالی امداد نہ دینے یا انہیں مسلح نہ کرنے کے وعدوں کا مطالبہ کیا تھا۔ ان مطالبات کے بعد اس امن منصوبے پر کامیابی سے عمل درامد خطرے میں پڑ گیا تھا۔

"یہ ضروری ہے کہ آنے والے اڑتالیس گھنٹوں میں شام بھر میں حکومتی افواج کی موجودگی میں فوری اور ناقابلِ تردید تبدیلی دکھائی دے۔"

کوفی عنان

منگل کو شام سے ملنے والی اطلاعات بتایا گیا کہ سرکاری افواج نے حمص شہر اور شام کے شمالی صوبے حلب میں گولہ باری کی ہے۔

حزبِ اختلاف کے نیٹ ورک ایل سی سی کے مطابق حمص میں منگل کو اٹھائیس افراد مارے گئے جبکہ حما میں مرنے والوں کی تعداد بیس رہی۔ اس کے علاوہ الیپو، ادلیب، درعا اور دمشق کے نواح سے بھی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

کوفی عنان نے اپنی رپورٹ میں ایک بار پھر شامی حکومت اور مخالف گروہوں سے تشدد بند کرنے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ امن منصوبے کو بچانے کے امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے سکیورٹی کونسل کو بتایا کہ’یہ ضروری ہے کہ آنے والے اڑتالیس گھنٹوں میں شام بھر میں حکومتی افواج کی موجودگی میں فوری اور ناقابلِ تردید تبدیلی دکھائی دے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ حزبِ مخالف کو بھی فوری طور پر لڑائی روک دینی چاہیے تاکہ حکومت کو بہانے بنانے کا کوئی موقع نہ ملے۔

اس سے قبل ترکی میں پناہ گزین کیمپ کا دورہ کرنے کے بعد کوفی عنان نے کہا تھا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ امن منصوبہ ناکام ہوگیا ہے۔

دوسری جانب روس کے دورے پر گئے ہوئے شامی وزیرِ خارجہ ولید معلم نے کہا ہے کہ حکومت نے ڈیڈ لائن پر عمل درآمد کرتے ہوئے اقدامات کیے ہیں اور کئی علاقوں سے فوج کو واپس بلا لیا ہے۔ تاہم انہوں نے تشدد کے جاری واقعات کا ذمہ دار مسلح گروہوں کو ٹھہرایا ہے۔

.

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔