مطلوب ترین:اسامہ کی جگہ عریاں فلم بنانے والے کا نام

تصویر کے کاپی رائٹ FBI
Image caption اسامہ بن لادن کو ہٹا کر ایرک توتھ کو اس فہرست میں شامل کر دیا گیا ہے۔

امریکہ میں وفاقی سطح پر قانون نافذ کرنے والے ادارے ایف بی آئی نے اپنے دس مطلوب ترین مفرور افراد کی فہرست میں سے اسامہ بن لادن کو نکال کر ایک ایسے شخص کو ڈال دیا ہے جس پر بچوں کی عریاں فلمیں بنانے کا الزام ہے۔

سوال یہ ہے کہ امریکہ کا یہ معروف قانون نافذ کرنے والا ادارہ اپنی مطلوبہ افراد کی فہرست کا انتخاب کس طرح کرتا ہے؟

اسامہ بن لادن دنیا کے مطلوب ترین دہشت گرد تھے اور ان کی جگہ آنے والے تیس سالہ ایرک توتھ پر تو کسی کو قتل کرنے کا الزام بھی نہیں ہے۔

سابق سکول ٹیچر سنہ دو ہزار آٹھ سے مفرور ہیں۔ ان کے زیرِ استعمال کیمرے پر بچوں کی عریاں تصاویر ملنے کی بعد ان کے خلاف میری لینڈ کی ریاست میں فردِ جـرم عائد کی گئی ہے۔

ایف بی آئی انہیں مختلف ریاستوں میں ڈھونتی رہی ہے تاہم اس وقت تک ان کا کوئی سراغ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ منگل کے روز انہیں دس مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔

ایف بی آئی کے ترجمان مائک کورٹان نے ایک بیان میں کہا ’ہم نے ہمیشہ مفروروں کو پکڑنے اور کیس حل کرنے کے لیے عوام کی مدد پر انحصار کیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ایرک توتھ کی دس مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شمولیت اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ اس شخص کو معاشرے سے دور کرنا کتنا ضروری ہے۔‘

ایف بی آئی نے پہلی بار دس مطلوب ترین افراد کی فہرست سنہ انیس سو پچاس میں ایک صحافی کے سوال کے جواب میں بنائی تھی۔

ادارے کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تب سے اب تک یہ ایک انتہائی کامیاب پروگرام رہا ہے۔

ایف بی آئی کے مطابق اب تک اس فہرست میں آنے والے چار سو پچانوے افراد میں سے چار سو پینسٹھ گرفتار یا ڈھونڈ لیے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک سو تریپن کو عوام کی مدد سے پکڑا گیا ہے۔

فہرست پر موجود دس افراد کی درجہ بندی نہیں کی جاتی۔ اس فہرست میں شامل کیے جانے کے لیے مفرور کے خلاف وفاقی سطح کا وارنٹ جاری کیا گیا ہونا چاہیے، اس کا معاشرے کے لیے خطرہ ہونا اور اس کے مفرور رہنے سے مسلسل نقصان پہنچانے کا رجحان واضح ہونا چاہیے۔ اس شخص میں برائی کا عنصر اس قدر شدید ہونا چاہیے کہ ایک لاکھ ڈالر کی انعامی رقم کا جواز بن سکے۔

ایف بی آئی اس فہرست میں مفرور افراد کو شامل کرنے کے لیے اپنے فیلڈ دفاتر میں مطلوب افراد کا جائزہ لیتی ہے۔ ان کیسوں کو پھر آہستہ آستہ ادارے کے اعلٰی حکام تک پہنچایا جاتا ہے اور آخر میں کسی بھی شخص کی شمولیت کی منظوری ادارے کے ڈائریکٹر دیتے ہیں۔

بیورو کے سرکاری تاریخ دان جان فوکس کا کہنا تھا کہ یہ فہرست ادارے کی اس وقت کے مطابق تحقیقاتی دلچسپی کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ساٹھ اور ستر کی دہائیوں میں ویتنام کی جنگ کے مخالفین اس فہرست پر دیکھنے کو ملتے تھے اور اسی طرح نوے کی دہائی میں بین القوامی دہشت گرد جبکہ گزشتہ دہائی میں بچوں کے ساتہ فحش حرکتیں کرنے والے یا ان کی عریاں فلمیں بنانے والوں کا رجحان ہے۔

اس فہرست سے لوگوں کو تب نکالا جاتا ہے جب وہ پکڑے جاتے ہیں یا ان کا انتقال ہو جاتا ہے یا پھر انہیں معاشرے کے لیے خطرہ نہیں سمجھا جاتا ہے۔

کسی نئے افراد کو اس فہرست میں شامل کرنے کا طریقہ کار انتہائی طویل ہو سکتا ہے۔ ایف بی آئی نے اسامہ بن لادن کی جگہ پُر کرنے میں گیارہ مہینے لگا دیے اور بدھ تک تو بلجر بھی اس میں شامل تھے جنہیں جون میں ہی پکڑ لیا گیا تھا۔

اسی بارے میں