عاشقوں کی قاتل کو سزائےموت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مجرم کا کہنا ہے کہ وہ بےقصور ہیں اور وہ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف اپیل درج کریں گی۔

جاپان کی ایک عدالت نے سنہ دو ہزار نو میں اپنے تین محبت کرنے والوں کو قتل کرنے والی ایک خاتون کو موت کی سزا سنائی ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ سینتیس سالہ کانے کجیما نے پیسوں کے لیے تین آدمیوں کا قتل کیا ہے جن کی عمریں اکتالیس، تریپن اور اسی برس تھیں۔ تاہم عدالت نے بتایا کہ ایسے جرائم کی کوئی معافی نہیں ہے۔

کانے کجیما ان آدمیوں سے ڈیٹنگ ویب سائٹز پر ملی تھیں اور بعد میں انہیں آدمیوں کو نیند کی گولیاں دے کر ’کاربن موناکسائڈ‘ کے ذریعے قتل کیا۔

تاہم مجرم کا کہنا ہے کہ وہ بےقصور ہیں اور وہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل درج کریں گی۔

واضح رہے کہ یہ عدالتی کارروائی جاپان میں مشہور ہوگئی ہے اور اسے ’بلیک وڈو‘ کیس کہا جانے لگا ہے۔ ان کو یہ نام مادہ مکڑی کے نام پر رکھا گیا جو اپنے ساتھی سے جماع کرنے کے بعد اسے کھا جاتی ہے۔

عدالتی فیصلے کو سننے کے لیے عدالت بڑے تعداد میں لوگ جمع ہو گئے تھے۔ عدلت جہاں صرف پچاس افراد کے بیٹھنے کی جگہ تھی وہ جانے کے لیے ایک ہزار افراد لائن میں کھڑے دیکھے گئے۔

خبر رساں ادارے کیوڈو کے مطابق جج کازویوکی اوکوما کا کہنا تھا ’اس کیس میں معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ ملزم نے ذاتی مفاد کے لیے یہ جرائم کیے۔‘

جج کا کہنا تھا کہ ملزم نے عدالت میں ’بار بار بےبنیاد بہانے بنائے ہیں اور کسی قسم کے پچھتاوے کا اظہار بھی نہیں کیا۔‘

دوسری جانب دفاعی بیان کے مطابق ان تینوں افراد کی ہلاکت یا تو خودکشیاں تھیں یا پھر یہ حادثاتی طور پر پیش آئیں۔ ان تین آدمیوں میں سے دو، جاپانی دارالحکومت ٹوکیو میں اپنے گھروں میں مردہ پائے گئے جبکہ ایک کرائے کی گاڑی میں مردہ ملے۔