سیز فائر کی نگرانی، مبصر بھیجنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں حکومت مخالف گروپوں نے جمعہ کو بڑے پیمانے پر مظاہروں کی اپیل کی ہے

عرب لیگ اور اقوامِ متحدہ کے امن منصوبے کے تحت شام میں فائر بندی کا پہلا دن گزرنے کے بعد اقوامِ متحدہ اس سیز فائر پر عملدرآمد کی نگرانی کے لیے مبصرین شام بھیجنے کی تیاری کر رہی ہے۔

شام کے لیے عالمی ایلچی کوفی عنان نے شامی حکومت کی طرف سے فائربندی کا خیر مقدم کیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ شام نے ابھی تک چھ نکاتی امن معاہدے پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے کوفی عنان کی شام میں مبصرین کی فوری تعیناتی کی تجویز کا خیرمقدم کیا ہے جبکہ شام کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دے گا۔

امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن کا بھی کہنا ہے کہ شام میں فائربندی اہم پیشرفت ہے لیکن یہ صرف پہلا قدم ہے اور شام میں امدادی تنظیموں کو سرگرمیوں کی مکمل اجازت دی جانی چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شام کے صدر بشار الاسد کو ’جانا ہی ہوگا‘۔

فرانس کے وزیرِ خارجہ ایلن جوپ کا کہنا ہے کہ مبصرین کی تعیناتی کے سلسلے میں قرارداد کا مسودہ جمعرات کو پیش کر دیا جائے گا۔

بی بی سی کی نامہ نگار باربرا پلیٹ کا کہنا ہے کہ ارادہ یہ ہے کہ بیس سے تیس غیر مسلح مبصرین یہ جاننے کے لیے شام بھیجیں جائیں کہ کیا وہاں کے حالات مبصرین کا مکمل مشن بھیجنے کی اجازت دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام کا کہنا ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کے مبصرین کو ملک میں کام کرنے کی اجازت دے گا

.امریکی وزیرِ خارجہ نے بھی مبصرین کی ایڈوانس ٹیم کی فوری تعیناتی کی حمایت کی ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ گروپ اور کسی بڑے نگران مشن کو ’نقل و حرکت کی مکمل آزادی، بلا روک ٹوک رابطہ کاری اور ملک بھر میں تمام شامی شہریوں تک رسائی ہونی چاہیے اور فریقین کو ان کے تحفظ کی ضمانت دینا ہوگی‘۔

خیال رہے کہ شام میں جمعرات سے اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان کے تجویز کردہ فائر بندی کے منصوبے کا نفاذ ہوا ہے۔ اس منصوبے کے تحت شامی حکومت نے ملک کے قصبوں، دیہات اور شہروں میں موجود ٹینک اور دیگر بھاری ہتھیار ہٹانے اور اس کے اڑتالیس گھنٹے کے اندر ہر قسم کی کارروائی روکنے اور جنگ بندی کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

فائر بندی کے معاہدے کے نفاذ کے باوجود شام میں حکومت مخالف گروپوں نے جمعہ کو بڑے پیمانے پر مظاہروں کی اپیل کی ہے۔

شام کی حکومت اور باغیوں نے ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔

شام کے سرکاری ٹی وی نے خبر دی ہے کہ ایلیپو شہر میں ایک بم حملے میں ایک فوجی افسر ہلاک جبکہ چوبیس زخمی ہو گئے ہیں۔ ادھر باغیوں نے الزام لگایا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے پندرہ شہریوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

اسی بارے میں