شام: مبصرین بھیجنے کی قرارداد منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں فائر بندی کی نگرانی کے لیے ایک ایڈوانس ٹیم کی تعیناتی کے لیے پیش کی گئی قرارداد کی منظوری دے دی ہے۔

اس قرارداد میں تیس غیر مسلح مبصرین کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ہے۔

مبصرین کی یہ ایڈوانس ٹیم شام روانگی کے لیے تیار ہے اور نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ قرارداد کی منظوری کے بعد وہ آئندہ چندگھنٹوں میں روانہ ہو سکتے ہیں۔

روس کی جانب سے ایڈوانس ٹیم کی تعیناتی کی قرارداد کے نظرِثانی شدہ مسودے کی منظوری دیے جانے کے بعد یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

سفارتکاروں نے جمعہ کو امریکہ کی جانب سے تجویز شدہ قرارداد پر نظرِ ثانی کی تاکہ روس کے اعتراضات کو دور کیا جا سکے۔ روس ماضی میں شام کی مذمت پر مبنی دو قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے۔

شام کے لیے عرب لیگ اور اقوامِ متحدہ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے سیز فائر کی نگرانی کے لیے ڈھائی سو مبصرین کی شام میں تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے اور سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم اس کے لیے ادارے کی منظوری ضروری ہوگی۔

ادھر شام میں حکومت کے مخالفین نے الزام لگایا ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود حمص اور دیگر مقامات پر تشدد جاری ہے۔

حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق حمص کے کچھ علاقوں میں شامی فوج نے ٹینکوں کی مدد سے کارروائی کی ہے اور راکٹ داغے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں سترہ افراد مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حلب سے بھی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ملی ہیں۔

تاہم بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ جمعہ کو مجموعی طور پر کم ہلاکتیں ہوئی ہیں اور جنگ بندی کی وجہ سے تشدد میں کمی آئی ہے۔

شام کے لیے اقوامِِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے مبصرین کی ٹیم کو فوری طور پر شام بھیجنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ان کے امن منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا جا سکے۔

کوفی عنان کے امن منصوبے کے مطابق شام میں گزشتہ ایک سال سے جاری تشدد کا فوری خاتمہ شامل ہے جس کے دوران اب تک نو ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں