افغانستان بھر میں طالبان کے حملے، ’سترہ حملہ آور ہلاک‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

افغانستان میں طالبان نے اتوار کو مختلف مقامات پر نیٹو کے ٹھکانوں پر منظم حملے کیے جن میں حکام کے مطابق سترہ حملہ آور ہلاک ہو گئے۔ اتوار کی رات کو حملے شروع ہونے کے بارہ گھنٹے بعد بھی افغان فوجی مزاحمتکاروں سے نمٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔کابل میں رات گئے بھی فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق انہوں نے دو مشتبہ خود کش حملہ آوروں کو بھی گرفتار کیا ہے جو ملک کے نائب صدر محمد کریم خلیلی کو ہلاک کرنے کی کوشش کرنے والے تھے۔

ان حملوں میں مغربی ممالک کے سفارتخانے، نیٹو کے صدر دفاتر اور افغانستان کی پارلیمان کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے پکتیا، لوگر اور ننگرہار کو بھی نشانہ بنایا۔ طالبان نے ان حملوں کو موسم بہار کی کارروائی کا آغاز قرار دیا ہے۔

افغان وزارت داخلہ نے بتایا کہ حملوں میں سترہ پولیس اہلکار اور نو شہری بھی ہلاک ہوئے۔ کابل میں آخری بار اس سطح کا حملہ ستمبر سن دو ہزار گیارہ میں ہوا تھا۔ اس واقعے میں چودہ افغان ہلاک ہوئے تھے۔

اتوار کو ہونے والے حملے میں ایک نشانہ برطانوی سفارتخانہ بھی تھا۔ دو راکٹ اس کے گارڈ ٹاور میں لگے جبکہ ایک سفارتکار کے گھر کو راکٹ گرینیڈ کا نشانہ بنایا گیا۔

کابل میں واقع پارلیمنٹ کے قریب بھی دھماکے ہوئے ہیں۔ کابل میں روس کے سفارتخانے پر بھی راکٹ داغے گئے ہیں اور جرمن سفارتخانے سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔

امریکی سفارتخانے نے ایک بیان میں سفارتخانے کے قریب حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ’سفارتخانے کو بند کردیا گیا ہے اور تمام عملہ محفوظ ہے۔‘

دوسری جانب فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق کابل میں تعمیر کیے گئے نئے کابل سٹار ہوٹل میں آگ لگ گئی تھی۔

افغانستان کے رکن پارلیمان نعیم حمیدزئی نے بتایا کہ کئی ارکان پارلیمان نے بھی حملہ آوروں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا تھا۔ خبر رساں ایجنسی اے پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے چار سو سے پانچ سو گولیاں فائر کیں۔

دیگر شہروں میں حملے

بی بی سی کے کابل میں نامہ نگار بلال سروری کے مطابق مشرقی شہر جلال آباد میں خودکش حملے کی اطلاع ہے۔ پولیس کے مطابق خودکش حملہ آوروں نے جلال آباد ہوائی اڈے پر حملہ کیا تھا۔

جلال آباد میں اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے خوراک کے ایک اہلکار عبدالہادی نے بی بی سی کو بتایا ’امریکی فضائی اڈے پر حملے ہو رہے ہیں۔ زوردار دھماکوں کی آوازیں آ رہی ہیں اور ہمیں بنکرز میں پناہ لینی پڑی۔‘

صوبہ لوگر کے شہر پلِ عالم میں پولیس کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں نے سرکاری عمارت پر قبضہ کر لیا ہے اور دائرنگ کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔

اس کے علاوہ صوبہ پکتیا کے شہر گردیز میں بھی شدت پسندوں نے عمارت پر قبضہ کیا ہے جہاں پر شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ ہو رہی ہے۔

پاکستانی خواتین ارکان پارلیمان

رکن قومی اسمبلی بیگم شہناز وزیر اعلیٰ کی سربراہی میں افغانستان کے سرکاری دورے پر گئی ہوئیں خواتین ارکان پارلیمنٹ کے وفد میں شامل دونیا عزیز نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی وفد افغان پارلیمنٹ پر حملہ ہونے سے کچھ دیر پہلے ہی پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر کے ساتھ ملاقات کرکے نکلا تھا۔

اُنہوں نے کہا کہ افغانستان میں پاکستان کے سفیر کی طرف سے پارلیمانی وفد کے اعزاز میں ظہرانہ دیا گیا تھا جہاں پر اس حملے کی اطلاع ملی ہے۔

دونیا عزیز کا کہنا ہے کہ وہ اور وفد کے دیگر ارکان اس وقت پاکستانی سفارت خانے میں موجود ہیں اور وفد کے ارکان کو ہدایات دی گئی ہیں کہ جب تک کابل میں حالات بہتر نہ ہوں اُس وقت تک وہ سفارت خانے میں ہی رہیں۔

دونیا عزیز کے مطابق وفد کے ارکان کو کابل میں ایک فائیو سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا ہے۔

اسی بارے میں