اقوام متحدہ، مبصرین شام روانگی کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شام میں مبصرین کی تعیناتی کی قرارداد کی منظوری کے بعد ایک ایڈوانس ٹیم شام روانگی کے لیے تیار ہے۔

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے شام میں فائر بندی کی نگرانی کے لیے تیس غیر مسلح مبصرین کی ایک ایڈوانس ٹیم کی تعیناتی کے لیے پیش کی گئی قرارداد کی منظوری دے دی تھی۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ دنوں میں دو سو پچاس مبصرین کی تعیناتی کی تجاویز تیار کریں گے۔

سیکرٹری جنرل کے مطابق اقوام متحدہ کے مصبرین کو نقل و حرکت کی مکمل آزادی ہونی چاہیے۔

’ہم جانتے ہیں کہ شام ایک وسیع ملک ہے اور ہم کوشش کریں گے وہاں صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ایک موثر طریقۂ کار اپنایا جائے۔‘

اس سے پہلے روس کی جانب سے ایڈوانس ٹیم کی تعیناتی کی قرارداد کے نظرِثانی شدہ مسودے کی منظوری دیے جانے کے بعد یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

سفارتکاروں نے جمعہ کو امریکہ کی جانب سے تجویز شدہ قرارداد پر نظرِ ثانی کی تاکہ روس کے اعتراضات کو دور کیا جا سکے۔ روس ماضی میں شام کی مذمت پر مبنی دو قراردادوں کو ویٹو کر چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام میں گزشتہ ایک سال سے جاری حکومت مخالف مظاہروں میں اب تک نو ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام کے لیے عرب لیگ اور اقوامِ متحدہ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے سیز فائر کی نگرانی کے لیے ڈھائی سو مبصرین کی شام میں تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے اور سلامتی کونسل کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے تاہم اس کے لیے ادارے کی منظوری ضروری ہوگی۔

ادھر شام میں حکومت کے مخالفین نے الزام لگایا ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود حمص اور دیگر مقامات پر تشدد جاری ہے۔

حکومت مخالف کارکنوں کے مطابق حمص کے کچھ علاقوں میں شامی فوج نے ٹینکوں کی مدد سے کارروائی کی ہے اور راکٹ داغے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں سترہ افراد مارے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ حلب سے بھی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں متعدد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ملی ہیں۔

تاہم بیروت سے بی بی سی کے نامہ نگار جم میور کا کہنا ہے کہ جمعہ کو مجموعی طور پر کم ہلاکتیں ہوئی ہیں اور جنگ بندی کی وجہ سے تشدد میں کمی آئی ہے۔

شام کے لیے اقوامِِ متحدہ اور عرب لیگ کے مشترکہ ایلچی کوفی عنان نے مبصرین کی ٹیم کو فوری طور پر شام بھیجنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ ان کے امن منصوبے پر عملدرآمد شروع کیا جا سکے۔

کوفی عنان کے امن منصوبے کے مطابق شام میں گزشتہ ایک سال سے جاری تشدد کا فوری خاتمہ شامل ہے جس کے دوران اب تک نو ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں