’حملے انٹیلیجنس، نیٹو فورسز کی ناکامی‘

افغان حملہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان حملوں میں مغربی ممالک کے سفارتخانے، نیٹو کے صدر دفاتر اور افغانستان کی پارلیمان کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے اتوار کو ہونے والے شدت پسند حملوں کو انٹیلیجنس اور خاص طور پر نیٹو کی ناکامی قرار دیا ہے۔

ان حملوں پر اپنے پہلے ردِ عمل میں صدر کرزئی نے افغان سکیورٹی فورسز کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے ملک کا دفاع کرتے ہوئے اپنی اہلیت ثابت کر دی ہے۔

اہلکاروں کا کہنا ہے کہ افغان دارالحکومت اور متعدد صوبوں میں ہونے والے حملوں میں 36 حملہ آور اور سکیورٹی فورسز کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مسٹر کرزئی کا کہنا ہے کہ کابل اور دیگر صوبوں میں شدت پسندوں کی دراندازی امریکہ اور نیٹو کے لیے انٹیلی جنس کی ناکامی ہے اور اس کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔

اتوار کو شدت پسندوں نے پارلیمان کی عمارت اور وسطی کابل کے اس علاقے پر حملے کیے جہاں متعدد سفارتخانے ہیں یہ حملے اٹھارہ گھنٹے بعد پیر کو ختم ہوئے۔

ان حملوں میں مغربی ممالک کے سفارتخانے، نیٹو کے صدر دفاتر اور افغانستان کی پارلیمان کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔ حملہ آوروں نے پکتیا، لوگر اور ننگرہار کو بھی نشانہ بنایا۔ طالبان نے ان حملوں کو موسم بہار کی کارروائی کا آغاز قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں