خبر جھوٹی ہے، انعام کا ذکر کبھی نہیں کیا: لارڈ نذیر

تصویر کے کاپی رائٹ PA

برطانیہ میں لیبر پارٹی نے مبینہ طور پر امریکی صدر براک اوباما کی گرفتاری پر انعامی رقم کا اعلان کرنے پر ایوان بالا میں اپنے رکن لارڈ نذیر احمد کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

لارڈ نذیر احمد نے مبینہ طور پر امریکہ کے صدر براک اوباما اور سابق صدر بش کی گرفتاری کے لیے ایک کروڑ پاؤنڈ کے انعام کا اعلان کیا تھا۔

لارڈ نذیر نے ایسے انعام کا اعلان کرنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ افعانستان اور عراق میں’جنگی جرائم‘ کے حوالے سے بات کر رہے تھے۔

لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ انہیں لیبر پارٹی کی طرف سے معطل کیے جانے کی خبر سن کر حیرت ہوئی ہے۔

انہوں نے بی بی سی ایشیئن نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ خبر ’جھوٹی‘ ہے اور انہوں نے کبھی بھی امریکی صدر براک اوباما پر کسی قسم کی انعامی رقم کا ذکر نہیں کیا۔

’ہاں میں نے عراق اور افغانستان میں غیر قانونی جنگوں کے بارے میں بات کی اور ان جنگوں میں بش اور بلیئر کے کردار کے بارے میں بات کی لیکن میں نے کبھی بھی امریکی صدر براک اوباما یا کسی قسم کی انعامی رقم کا ذکر نہیں کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ وہ لیبر پارٹی کا بہت احترام کرتے ہیں اور ہر سوال کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔

لیبر پارٹی نے کہا ہے کہ وہ تحقیق کریں گے اور اگر یہ بات واقعی سچ نکلی تو وہ اس کی سختی سے مذمت کریں گے۔

پاکستان کے اخبار ایکسپریس ٹریبیون نے لارڈ نذیر احمد کا بیان شائع کیا ہے جس کے مطابق وہ امریکہ کی طرف سے کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے بانی اور جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کی گرفتاری کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے انعام کے اعلان پر رد عمل ظاہر کر رہے تھے۔

ایکسپریس ٹریبیون کی خبر کے مطابق لارڈ نذیر احمد نے کہا’ اگر امریکہ حافظ سعید کی گرفتاری پر ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کر سکتا ہے تو میں امریکہ کے موجودہ صدر براک اوباما اور سابق صدر جارج بش پر ایک کروڑ پاؤنڈ کا انعام مقرر کر سکتا ہوں۔‘

اخبار کے مطابق لارڈ نذیر احمد نے مزید کہا کہ’ وہ انعامی رقم ہر صورت میں اکٹھی کر لیں گے چاہیے اس کے لیے انہیں اپنے مکان سمیت ذاتی اثاثے ہی کیوں نہ فروخت کرنے پڑیں۔‘

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق لیبر پارٹی کی ایک ترجمان نے برطانوی پریس ایسوسی ایشن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر تحقیقات سے ثابت ہوتا ہے کہ لارڈ نذیر احمد نے یہ بیان دیا تھا تو لیبر پارٹی اس کی مذمت کرے گی۔

لارڈ نذیر احمد کے اس بیان کی خبریں امریکہ کی جانب سے کالعدم شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید کی گرفتاری کے لیے ایک کروڑ ڈالر کے انعام مقرر کیے جانے کے چند دنوں بعد آئی ہیں۔

لارڈ نذیر احمد نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیبر پارٹی کے حکام نے ان سے اس ضمن میں کوئی رابط نہیں کیا ہے۔

’ کیا انہوں نے مجھے معطل کر دیا، یہ نہیں جانتا ہوں اور میرے لیے یہ حیرانگی کی بات ہے۔‘

انعامی رقم کے اعلان کی خبر پر لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ’میں نے انعامی رقم دینے کا اعلان نہیں کیا اور صرف اتنا کہا تھا کہ عراق اور افغانستان میں جنگ جرائم کیے گئے ہیں اور جن لوگوں نے سخت الزامات عائد کیے ہیں وہ ان غیر قانونی جنگوں میں ملوث سابق امریکی صدر بش اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو قانون کے کٹہرے میں لائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ’ اگر لیبر پارٹی مجھے رکنیت سے معطل کرنا چاہتی ہے تو میں اس پر ان سے بات کروں گا اور انہیں مجھے اس ضمن میں کچھ شواہد دینا ہونگے۔‘