’خواتین نے عریاں رقص کیا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اِٹلی کے سابق وزیرِاعظم سلویو برلسکونی کے خلاف سیکس کے مقدمے کی گواہ کا کہنا ہے کہ برلسکونی کی پارٹی میں خواتین نے عیسائی راہباؤں کا روپ دھار کر عریاں رقص کیا تھا۔

ایمان فادل نامی خاتون کا کہنا ہے کہ برلسکونی نے انہیں اس وقت دو ہزار یور دیے جب انہوں نے پہلی بار بار ’بنگا بنگا‘ نامی پارٹی میں شرکت کی۔

ایمان فادل ان متعدد خواتین میں سے ایک ہیں جو پیر کو اٹلی کے شہر میلان کی عدالت میں برلسکونی کے خلاف گواہی دینے پہنچی تھیں۔

گواہ ایمان فادل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اِٹلی کے سابق وزیر اعظم برلسکونی کے میلان سے باہر قائم بنگلہ میں متعدد پارٹیوں میں شرکت کی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ جب وہ پہلی رات برلسکونی کے بنگلے پر گئیں تو انہوں نے دو نوجوان خواتین کو راہباؤں کا روپ دھار کر برلسکونی کے لیے عریاں رقص کرتے ہوئے دیکھا۔

اِٹلی کے سابق وزیرِ اعظم برلسکونی پر ایک کم عمر نائٹ کلب ڈانسر کو سیکس کے لیے پیسے دینے کا الزام ہے۔

مراکش سے تعلق رکھنے والی کریمہ مہروگ نے جب وزیر اعظم کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا اس وقت اس کی عمر صرف سترہ برس تھی۔

برلسکونی پر کریمہ مہروگ کو جنھیں روبی ڈانسر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، پولیس کی حراست سے رہا کروانے کے لیے اپنی اختیارات استعمال کرنے کا بھی الزام ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے برلسکونی کے وکیل نکولو کے نے برلسکونی کی جانب سے ان خواتین کو پیسے ادا کرنے کے الزام کی تردید کی ہے۔

اسی بارے میں