موقع ملا تو پھر ایسا ہی کروں گا: انرش بریوک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس مقدمے میں ایک اہم سوال بریوک کی ذہنی صحت کا ہے۔

گزشتہ جولائی ناروے میں ایک بم دھماکے اور فائرنگ سے ستتر لوگوں کا قتلِ کرنےوالے شخص نے اوسلو میں جاری اپنے مقدمے کے دوران اپنے اقدامات کو انتہائی فخریہ انداز میں بیان کیا۔

انرش بہرنگ بریوک نے عدالت سے کہا کہ انہوں نے دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ کا سب سے شاندار اور پیچیدہ حملہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انہیں بری کیا گیا تو وہ دوبارہ ایسا کریں گے۔

انہوں نے ’یوتھ کیمپ‘ پر حملہ کرنے کا اعتراف کیا تاہم انہوں نے دہشتگردی اور قتلِ عام کے الزامات کی تردید کی۔

انہوں نے کہا کہ میرے اقدامات اچھائی پر مبنی ہیں، بدی پر نہیں۔

اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے ناروے کو تارکینِ وطن اور اسے کثیر الثقافتی معاشرہ بننے سے روکنے کے لیے یہ اقدامات کیے۔

مقدمہ میں کھانے کے وقفے کے بعد وکیلِ استغاثہ نے ان جرح شروع کی۔ اس دوران ان کی وردی کے انتخاب اور ان کے ’نائٹ ٹیمپلر‘ نامی گروہ کی رکنیت کے دعوے پر بات کی گئی۔ استغاثہ پہلے کہہ چکی ہے کہ ’نائٹ ٹیمپلر‘کا وجود ہی نہیں۔

ملزم کا اصرار تھا کہ اس گروہ میں بہت تھوڑے رکن ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ القائدہ کے لائحہ عمل سے متاثر ہیں اور انہیں اُس روز بچنے کی امید نہ تھی۔

اس سے پہلے بریوک کے وکلاء نے خبردار کیا تھا کہ بہت سے نارویجیوں کو ان کے موکل کے بیان پر ناراضی ہوگی۔ گیئر لپسٹڈ کا کہنا تھا کہ وہ متاثرین کے خاندانوں کی جانب سے اس خدشے کو سمجھتے ہیں کہ بریوک اس مقدمے کو بطور منبر استعمال کریں گے تاہم بریوک کو اپنی وضاحت پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔

بریوک کے حلفیہ بیان کو نشر نہیں کیا جائے گا۔

عدالت میں موجود بی سی سی کے میتھیو پرائس کا کہنا تھا کہ بریوک کا بیان اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہو گا کہ وہ پاگل ہیں یا نہیں اور عدالت میں ماہر نفسیات ان کا غور سے مطالعہ کر رہے ہیں۔وہ پہلے ہی کہ چکے ہیں کہ وہ اس عدالت کو نہیں مانتے۔

اس مقدمے کی سماعت دس ہفتوں تک جاری رہنے کی توقع ہے۔

بریوک کے بیان میں آزاد خیالی اور کثیر الثقافتی معاشرے کی سخت تنقید کی گئی۔

اسی بارے میں